روشنی کا سفر — Page 45
میں اس کی سزا کیلئے چھ سال کی مدت مقررفرمائی تھی۔1897ء کا سال اس پیشگوئی کو پورا کرنے والا بن کر آیا اور پنڈت لیکھرام اپنی گستاخیوں کے سبب سے خدا تعالیٰ کے غضب کا مورد بنتے ہوئے اپنے عبرتناک انجام سے دو چار ہوا۔5مارچ 1897ء کو عید الفطر تھی جو سکون سے گزرگئی۔لیکن اگلے روز چھ مارچ کو شام سات بجے جبکہ پنڈت لیکھرام لاہور میں اپنے گھر کی بالائی منزل پر بیٹھا پنڈت دیانند کی سوانح عمری لکھ رہا تھا اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک اجنبی شخص نے جو پنڈت لیکھرام کے پاس آریہ دھرم اختیار کرنے کی غرض سے آیا تھا اچانک منجر کا ایک بھر پور وار کر کے لیکھرام کو شد ید زخمی کر دیا۔یہ وار ایسا شدید تھا کہ اس کی انتڑیاں تک باہر نکل آئیں اور وہ منہ کے بل زمین پر جا گرا۔چیخ و پکار کی آوازیں سن کر لوگ جمع ہوگئے اور لیکھر ام کو فوری طور پر لاہور کے میوہسپتال پہنچا دیا گیا۔انگریز سرجن ڈاکٹر پیری نو بجے کے قریب ہسپتال پہنچے اور زخموں کو سینا شروع کیا۔بارہ بجے کے قریب وہ اس کام سے فارغ ہوئے تو ٹانکے ٹوٹ گئے جس کی وجہ سے انہیں دوبارہ سینا پڑا۔لیکن یہ تمام طبی تدابیر بالکل بریکار گئیں اور صبح چار بجے کے قریب لیکھرام نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔اور یوں حضرت مسیح موعود کی وہ پیشگوئی بالکل سچ ثابت ہوئی جو آپ نے اس گستاخ کے بارے میں 20 فروری 1893ء کو کی تھی کہ۔دو چھ برس کے عرصے تک یہ شخص اپنی بدزبانیوں کی سزا میں عذاب شدید میں مبتلا ہو جائیگا۔نیز آپ نے فرمایا تھا کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصے میں کوئی عذاب نازل نہ ہوا جو خارق عادت اور اپنے اندر الہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوں۔“ اس کے بعد آپ نے مزید دعا کی تو آپ کو بتایا گیا کہ لیکھرام کی ہلاکت عید کے دوسرے روز ہوگی نیز یہ کہ ایک قوی ہیکل مہیب شکل فرشتہ جس کی آنکھوں سے خون ٹپکتا تھالیکھرام کی ہلاکت کے لئے متعین کیا گیا ہے۔اس کے بالمقابل لیکھر ام نے بھی یہ اعلان کیا تھا مرزا صاحب کذاب ہیں اور تین سال کے عرصے میں تباہ و برباد ہو جائیں گے۔وہ نادان یہ نہیں جانتا تھا کہ اس کی ہلاکت کی خبر تو خود خدا تعالیٰ نے دی تھی جبکہ اس کی پیشگوئی محض ایک دھمکی اور جھوٹ پر مشتمل تھی۔سے آخر لیکھو مرا تھا کٹ کر جس کی دعا ماتم پڑا تھا گھر گھر وہ میرزا یہی ہے