روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 30 of 104

روشنی کا سفر — Page 30

پرداز لوگوں نے یہ عالم دیکھا تو منصوبے کے مطابق فساد شروع کرنے لگے۔موقع پر موجود انگریز سپرینٹنڈینٹ پولیس نے فتنہ بڑھتا دیکھ کر حضور کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر واپس آپ کی قیام گاہ تک پہنچا دیا۔یوں مخالفین کا ایک خونی منصوبہ ناکام ہوگیا۔۲۸۔اگر یہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہے۔دہلی کے مباحثے کے بعد حضور لدھیانہ تشریف لائے اور یہاں ایک جلسہ عام سے خطاب فرمایا۔آپ کی تقریر کے بعد کپورتھلہ کے رہنے والے منشی فیاض علی صاحب نے عرض کیا کہ حضور ہماری بیت الذکر کا مقدمہ چل رہا ہے اور شہر کے تمام رئیس اور حکام غیر از جماعت لوگوں کے ساتھ ہیں اور یہ دلیل دے رہے ہیں کہ بیت الذکر کا بانی چونکہ غیر از جماعت تھا اس لئے یہ بیت الذکر احمدیوں کو نہیں دی جا سکتی۔آپ اس بارے میں دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے حق میں فیصلہ کروادے۔اس پر حضور نے جلالی رنگ میں فرمایا:۔اگر یہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہے تو بیت ، تمہارے پاس واپس آئے گی“ منشی صاحب نے یہ پیشگوئی فریق مخالف کو بھی سنوا دی اور بیت میں بھی تحریر کر کے چسپاں کر دی۔اب اتفاق یہ ہوا کہ چیف کورٹ کے اس حج نے جس کے پاس مقدمہ تھا پہلی ہی پیشی میں فریقین کی موجودگی میں یہ کہ دیا کہ چونکہ بیت کا بانی غیر احمدی تھا اس لئے احمدی اپنی علیحدہ بیت بنالیں۔حجج نے کہا کہ میں پرسوں یہ فیصلہ لکھ دوں گا۔اس زبانی فیصلے کو سن کر مخالفین نے بہت خوشی منائی اور حضور کی پیشگوئی کا خوب مذاق اڑایا لیکن تیسرے ہی دن ان کی یہ خوشی خاک میں مل گئی کیونکہ یہ متعلقہ حج عدالت میں آنے سے قبل ہی حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے فوت ہو گیا۔اور احمدیوں کے خلاف فیصلہ لکھنے کی حسرت لئے اس دنیا سے رخصت ہو گیا جبکہ نئے حج نے از سر نو تحقیقات کرنے کے بعد بالآخر 1905ء میں اس بیت الذکر کا فیصلہ احمدیوں کے حق میں دے دیا اور وہ احمدیوں کو مل گئی۔۲۹۔جلسہ سالانہ کا آغاز دسمبر 1891 ء کے آغاز میں حضور نے ایک کتاب آسمانی فیصلہ تصنیف فرمائی جس میں آپ نے غیر مذاہب کے لوگوں کے علاوہ تمام مکفر علماء صوفیوں، پیروں اور سجادہ نشینوں کو روحانی مقابلے کی دعوت دی اور اعلان کیا کہ یہ لوگ مومنوں کو ملنے والے انعامات مثلاً دعاؤں کی قبولیت، غیبی باتوں کا پتہ چلنا اور قرآنی معارف کے علم وغیرہ میں حضور کے ساتھ مقابلہ کر لیں۔اس کے ساتھ ساتھ آپ