روشنی کا سفر — Page 31
نے یہ تجویز بھی دی کہ اس مقابلے کو فیصلہ کن بنانے کے لئے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ایک انجمن منتخب کر لی جائے جو ایک سال تک دونوں فریقوں کے نشانات دیکھ کر اس روحانی مقابلے کا فیصلہ سنائے اور بتائے کہ کونسا فریق اس روحانی مقابلے میں غالب آیا ہے۔اس تجویز پر مزید غور کرنے کیلئے حضور نے جماعت کے دوستوں کو ہدایت فرمائی کہ وہ 27 دسمبر 1891 ء کو قادیان تشریف لائیں۔چنانچہ 27 دسمبر کو 75 احباب اس جلسے کیلئے جمع ہوئے اور نماز ظہر کے بعد بیت اقصیٰ میں اس اجلاس کی کاروائی کا آغاز ہوا۔مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے حضور کی تصنیف آسمانی فیصلہ پڑھ کر سنائی جس کے بعد یہ مشورہ کیا گیا کہ انجمن کا انتخاب کیسے کیا جائے۔تمام حاضرین نے بالا تفاق یہ مشورہ دیا کہ فی الحال اس مقابلے کا اشتہار دیا جائے اور پھر فریقین کی رضا مندی سے فیصلے کیلئے انجمن مقرر کر لی جائے۔جلسے کے آخر میں حضور نے تمام احباب سے مصافحہ کیا۔یہ جماعت احمدیہ کا پہلا جلسہ سالا نہ تھا جس کے بعد حضور نے اعلان فرمایا کہ آئندہ سے ہر سال 27, 28, 29 دسمبر کی تاریخوں میں جلسہ ہوا کرے گا۔۳۰۔حضور کی لاہور میں تشریف آوری جنوری 1892ء کے آخری عشرے میں حضرت مسیح موعود دعوت و تبلیغ کے لئے لاہور تشریف لائے اور اپنا پیغام اہالیان لا ہور تک پہنچایا۔ہر ایک قوم اور مذہب کے لوگ بڑی دلچسپی کے ساتھ آپ سے ملنے کے لئے آتے اور سوالات کرتے۔جن کے مدلل جواب سن کر یہ لوگ مطمئن ہو جاتے۔31 جنوری 1892ء کو آپ نے منشی میراں بخش صاحب میونسپل کمشنر لاہور کی کوٹھی کے احاطے میں ایک جلسہ عام سے خطاب کیا۔باوجود مخالفین کے منع کرنے کے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد آپ کی تقریر سننے کے لئے وہاں جمع ہوگئی اور قریباً دس ہزار کا مجمع آپ کو دیکھنے اور آپ کی باتیں سننے کے لئے ٹوٹا پڑ رہا تھا۔حضرت اقدس نے اس خطاب میں اپنے دعوے کے بارے میں لوگوں کو بتایا اور سمجھایا کہ وقت کے علماء چونکہ قرآن کریم کے دلائل کے ساتھ آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتے اس لئے آپ کے خلاف کفر کے فتوے دئے جارہے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اس شہر لاہور میں کافر کہنے والے آئیں اور قرآن مجید کے ارشادات کی روشنی میں اپنے اور میرے ایمان کا فیصلہ کر لیں۔حضور کی تقریر کے بعد حضرت مولانا نورالدین صاحب نے ایک انتہائی خوبصورت اور سچے جذبات سے پر تقریر کی۔جس میں آپ نے بڑے درد سے کلمہ شہادت پڑھ کر کہا کہ