روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 29 of 104

روشنی کا سفر — Page 29

الحق لدھیانہ کے نام سے موجود ہے۔والله يعصمك من الناس ۲۷۔آپ کے قتل کے منصوبے 1891ء میں حضور تبلیغ واشاعت دین کیلئے دلی تشریف لے گئے۔آپ 29 ستمبر 1891ء کو دلی پہنچے اور نواب لوہارو کی کوٹھی میں قیام فرما ہوئے۔مخالفین کو جب آپ کی آمد کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے لوگوں کومشتعل کر کے آپ کے خلاف اکسانا شروع کیا۔یہ لوگ شرمناک طریقے سے آپ کی قیام گاہ کے باہر آ کر گندی گالیاں دیتے اور کوٹھی پر پتھراؤ کرتے۔انہی دنوں حضور نے دتی کے بعض علماء کو وفات مسیح پر تحریری مباحثہ کرنے کی دعوت دی۔ان میں سے ایک عالم شمس العلماء مولوی عبدالحق تھے جنہوں نے حضور سے نہایت ادب کیساتھ معذرت کر لی۔جبکہ ایک اور مولوی سید نذیر حسین نے مولوی محمد حسین بٹالوی کے اکسانے پر مباحثے کی دعوت قبول کر لی اور فریقین سے پوچھے بغیر مولوی محمد حسین بٹالوی نے مباحثے کا دن بھی مقرر کر دیا۔آپ نے باوجود اس شرارت کے جلسے میں جانے کا فیصلہ کر لیا لیکن مباحثہ سے راہ فرار اختیار کرنے کے لئے عین جلسے کے وقت بٹالوی اور اس کے ساتھیوں نے دہلی کے عوام کو مشتعل کر کے آپ کی قیام گاہ کا محاصرہ کروا دیا اور بڑا فساد برپا کرنے کی کوشش کی۔بعض سرکش لوگ تو مکان کے اندر بھی داخل ہو گئے۔ان حالات میں مباحثے کے لئے جانا نا ممکن تھا اس لئے آپ نے پیغام بھجوایا کہ ایسے فتنہ میں مباحث ممکن نہیں۔مولوی نذیر حسین اور ان کے ساتھیوں نے اس پیغام پر فتح کے نعرے لگانے شروع کر دیئے اور کہنے لگے کہ مرزا بھاگ گیا۔ان باتوں کو سن کر حضور نے ایک اشتہار دیا جس میں مولوی نذیر حسین کو مباحثہ کرنے کیلئے کہا اور مباحثہ نہ کرنے کی صورت میں یہ تجویز دی کہ وفات مسیح کے بارے میں صرف میرے دلائل سن لیں اور اس کے بعد یہ قسم کھا جائیں کہ یہ دلائل درست نہیں اور حضرت مسیح ناصری زندہ آسمان پر موجود ہیں۔اس اشتہار کے بعد مولوی نذیر حسین نے راہ فرار اختیار کرنا چاہی لیکن عوام کے اصرار پر 20 اکتوبر 1891ء کو جامع مسجد دہلی میں بعد نماز عصر مباحثے کا وقت طے کر دیا۔حضور کے مخالف مولویوں نے یہ منصوبہ بھی بنایا کہ مباحثے کے دن مشتعل ہجوم کی آڑ میں آپ کو قتل کر دیا جائیگا۔مخلص احباب کی طرف سے حضوڑ کو یہ اطلاع مل چکی تھی کہ جامع مسجد دہلی میں آپ کے قتل کا منصوبہ تیار ہو چکا ہے لیکن آپ اپنے خدا پر کامل تو کل کرتے ہوئے وقت مقررہ پر چند احباب کے ساتھ جن کی تعداد محض بارہ تھی جامع مسجد پہنچ گئے۔مولوی نذیر حسین مباحثے سے تو عاجز تھے اس لئے انہوں نے مختلف بہانوں سے بحث کو ٹالنا چاہا۔اور قسم کھانے سے بھی احتراز کرنے لگے۔اور حضور کے دیر تک وہاں رکے رہنے اور بار بار پیغام دینے کے باوجود مولوی صاحب حجرے سے باہر نہیں نکلے۔ہجوم میں موجود فتنہ