روشنی کا سفر — Page 11
ے۔حضور علیہ السلام کے خلاف پہلا مقدمہ حضرت مسیح موعود پر پہلا مقدمہ 1877ء میں ہوا۔یہ مقدمہ امرتسر کے ایک پریس کے عیسائی مالک ڈلیا رام کی طرف سے آپ کے خلاف کیا گیا تھا۔آپ جو ایک لمبے عرصے سے دین حق کے ایک عظیم مجاہد کے طور قلمی خدمات سرانجام دے رہے تھے یہ بات مخالفین کی نگاہوں میں بہت کھٹک رہی تھی۔چنانچہ 1877ء میں آپ نے دین حق کی تائید میں ایک مضمون اشاعت کیلئے امرتسر کے ایک پریس کو روانہ کیا۔اور ساتھ مضمون کے متعلق ایک خط پیکٹ میں رکھ دیا۔پریس کا مالک جو ایک انتہا پسند عیسائی تھا۔اس نے یہ موقعہ غنیمت جانا اور اس بات کو بنیاد بنا کر کہ قانون کی رو سے کسی علیحدہ خط کا ایسے اشاعتی پیکٹ میں رکھنا جرم ہے آپ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا اور گورداسپور میں اس مقدمہ کی کاروائی شروع ہوئی۔کیونکہ محکمہ ڈاک خانہ کے قواعد کی رو سے ایسا کرنا واقعی جرم تھا اور ممکن نہیں کہ اس پر سزا نہ ہو۔اس لئے حضور کے وکیل شیخ علی احمد صاحب نے دیگر وکلاء سے مشورے کے بعد یہ رائے دی کہ حضور عدالت میں یہ بیان دے دیں کہ یہ خط ہم نے پیکٹ میں نہیں رکھا بلکہ ڈلیا رام نے خود رکھا ہے۔یوں عدم ثبوت کی بناء پر مقدمہ خارج ہو جائیگا۔آپ نے یہ مشورہ سن کر اس پر عمل کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ میں کیسے جھوٹ کہہ دوں کہ یہ خط میں نے نہیں رکھا۔چاہے کچھ بھی ہو میں بیچ بولوں گا۔آپ کے وکیل شیخ علی احمد صاحب نے یہ حالات دیکھ کر آپ کے کیس میں حاضر ہونے سے انکار کر دیا اور آپ وکیل کے بغیر ہی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔اور انگریز جج کے سامنے سچا بیان دیا کہ یہ خط میں نے ہی رکھا تھا لیکن کسی بدنیتی سے نہیں بلکہ مضمون کا ہی ایک حصہ سمجھ کر اسے ساتھ شامل کر دیا تھا۔انگریز جج پر آپ کی سچائی کا ایسا اثر ہوا کہ باوجود مخالف وکیل کی پوری کوشش کہ اس نے آپ کو عزت کے ساتھ اس مقدمے سے بری کر دیا۔یوں سچائی کی فتح ہوئی جو خود آپ کے وکیلوں کے لئے بھی حیران کن تھی۔۔براہین احمدیہ کی اشاعت (خلاصه از آئینہ کمالات اسلام ) حضرت مسیح موعود اسلام کی تائید میں دیگر تمام مذاہب کے ساتھ جو علمی جہاد شروع کر چکے تھے اس کا تقاضہ تھا کہ دین حق کی حقانیت کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے ایک مستقل کتاب تصنیف کی جائے۔جس میں دین حق کی سچائی ، حضرت محمد مصطفیٰ کی صداقت اور قرآن کریم کی فوقیت اور برتری کے بارے میں دلائل پیش کئے جائیں۔چنانچہ اس ضرورت کو محسوس کر کے آپ نے