روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 10 of 104

روشنی کا سفر — Page 10

پہنچنا چاہئے۔چنانچہ آپ فورا لا ہور سے قادیان پہنچ گئے اور والد صاحب سے ملاقات کی۔اس وقت ان کی حالت کچھ سنبھل چکی تھی لیکن بیماری ابھی جاری تھی۔دوسرے روز آپ اپنے والد صاحب کی خدمت میں حاضر تھے کہ انہوں نے آپ کی بے آرامی کو محسوس کر کے آپ سے آرام کرنے کا ارشاد فرمایا۔آپ ان کے ارشاد کی تعمیل میں آرام کرنے کیلئے تشریف لے گئے اور اسی دوران تھوڑی سی غنودگی ہو کر آپ کو الہام ہوا کہ "والسماء والطارق، قسم ہے آسمان کی جو قضاء وقدر کا منبع ہے اور قسم ہے اس حادثہ کی جو آج آفتاب کے غروب کے بعد واقع ہوگا۔اس الہام کے نتیجے میں آپ سمجھ گئے کہ آج والد صاحب وفات پا جائیں گے۔اور پھر ایسا ہی ہوا اور الہام کے مطابق اس روز حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب وفات پاگئے۔ان کی وصیت کے مطابق انہیں بہت اقصیٰ کے صحن میں جو حال ہی میں مکمل ہوئی تھی دفن کیا گیا۔وفات کے وقت آپ کی عمر 80 سال کے قریب تھی۔( بحوالہ کتاب البریہ روحانی خزائن جلد نمبر 13 صفحہ 191 حاشیہ) ۶۔الیس الله بکاف عبده جس وقت اللہ تعالیٰ نے بذریعہ الہام حضرت مسیح موعود کو آپ کے والد کی وفات کی خبر دی تو بشریت کے تقاضوں کی وجہ سے طبعاً آپ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ والد صاحب کی وفات کے بعد آمدنی کا کیا ذریعہ ہوگا اور کس طرح گزر بسر ہوگی۔تب اُسی وقت آپکو دوبارہ غنودگی ہوئی اور بڑی شان کے ساتھ یہ الہام ہوا۔الیس الله بکاف عبده یعنی کیا خدا اپنے بندے کیلئے کافی نہیں ہے؟ اس الہام نے آپ کی سب پریشانی دور کردی۔(ماخوذ از کتاب البریہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ نمبر 195-194 حاشیہ) آپ نے اسی وقت ایک ہندو شخص لالہ ملا وامل کو سب بات بتا کر امرتسر میں حکیم محمد شریف صاحب کی طرف بھجوایا تا کہ وہ ان کے ذریعے سے یہ الہامی الفاظ کسی نگینے پر لکھوا کر انگوٹھی بنوا لا ئیں۔چنانچہ لالہ ملا وامل صاحب امرتسر گئے اور پانچ روپے میں یہ انگوٹھی بنوا کر لے آئے۔یوں یہ ہندو دوست اور حکیم محمد شریف صاحب اس عظیم نشان کے گواہ بن گئے۔اور دنیا نے دیکھا کہ والد کی وفات کے بعد باپ سے بڑھ کر پیار کرنے والے خدا نے ہر لحہ آپ کی کفالت کی جیسا کہ حضور خود اپنی ایک نظم میں فرماتے ہیں:۔ہیں۔ابتداء سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے گود میں تیری رہا میں مثل طفل شیر خوار آج جماعت میں ایسی انگوٹھیاں عام طور پر رائج ہیں جو اس الہام اور حضوڑ کے ساتھ خدا تعالیٰ کے خاص سلوک کی یاد دلاتی