روشنی کا سفر — Page 12
خاص الہی تائید سے بہت کم وقت میں ایک شہرہ آفاق کتاب تصنیف فرمائی جس کا نام براہین احمد یہ رکھا گیا۔آپ نے یہ کتاب ایسے وقت میں لکھی جب مالی لحاظ سے آپ اس حیثیت میں نہیں تھے کہ اس کتاب کی طباعت کروا سکیں لیکن خدمت دین کی تڑپ نے آپ کو مجبور کیا کہ جیسے بھی ہو یہ کتاب شائع کی جائے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس محبت کی قدر کی اور خود ایسے سامان مہیا فرما تا چلا گیا کہ کتاب کی اشاعت کا کام آسان ہو گیا اور 1880ء میں اس کتاب کا پہلا حصہ شائع ہو گیا۔یہ کتاب ایسی اعلیٰ درجے کی تھی کہ مسلمان حلقوں میں اس کی دھوم مچ گئی۔اور ہر طرف سے حضور کے لئے بے مثال خراج عقیدت پیش کیا گیا۔اہلحدیث کے مشہور عالم مولوی محمد حسین بٹالوی نے اس کتاب کے بارے میں اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں لکھا ک ”ہماری رائے میں یہ کتاب اس زمانے میں موجودہ حالات کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی۔“ (اشاعۃ السنۃ جلد ہفتم نمبر 6 صفحہ 169) دیگر علماء اور بزرگوں کی طرف سے بھی اس کتاب کی بہت تعریف کی گئی۔لدھیانہ کے مشہور اور با کمال بزرگ حضرت صوفی احمد جان صاحب نے بھی اس کتاب کے بارے میں بڑے اچھے تاثرات لکھے اور حضرت مسیح موعود کے بے نظیر کلام کی شوکت کو محسوس کر کے بے اختیار کہہ اٹھے کہ:۔سب مریضوں کی ہے تمہیں تم مسیحا ! نگاه نیز جب بھی کوئی شخص آپ کے پاس بیعت کرنے کو آتا تو اسے کہتے۔خدا کے لئے سورج نکل آیا ہے۔اب تاروں کی ضرورت نہیں۔جاؤ اور حضرت صاحب کی بیعت کرو۔66 حضرت صوفی احمد جان صاحب نے حضرت اقدس سے بیعت لینے کی درخواست بھی کی لیکن چونکہ ابھی حضور کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا کوئی حکم نہ تھا اس لئے آپ نے انکار کر دیا۔۹ معجزانہ شفاء کا نشان براہین احمدیہ کی تصنیف و اشاعت کے کام میں حضور نے اپنی صحت کے خیال سے بے نیاز ہو کر جان کی بازی لگادی تھی۔اور اس مسلسل جہاد کے بعد 1880 میں ہی آپ قولنج زجیری“ سے سخت بیمار ہو گئے۔یہ تکلیف وباء کی صورت میں علاقے میں پھیلی