روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 9 of 104

روشنی کا سفر — Page 9

ہو گئے۔امرتسر پہنچے تو قادیان جانے کیلئے آپ نے ایک یکہ کرائے پر حاصل کیا۔ابھی آپ چلنے کی تیاری ہی کر رہے تھے کہ قادیان سے ایک اور آدمی آپ کو لینے کے لئے امرتسر پہنچ گیا اور یکہ والے سے جلد از جلد قادیان پہنچنے کو کہنے لگا۔اس شخص نے جب بار بار جلدی چلنے کو کہا اور بتایا کہ والدہ کی حالت بہت نازک ہے تو آپ سمجھ گئے کہ آپ کی مہربان والدہ کا انتقال ہو گیا ہے۔حضور نے اس شخص سے کہا کہ تم اصل واقعہ کیوں بیان نہیں کرتے ؟ تب اس شخص نے بتایا کہ والدہ صاحبہ فوت ہو چکی ہیں اور اچانک صدمے کے خیال سے آپ کو ایک دم خبر نہیں کی گئی۔(بحوالہ سیرۃ المہدی حصہ اوّل صفحہ 35-34) حضرت مسیح موعود نے جب یہ سنا تو خدا تعالیٰ کی رضا پر پورے حوصلے سے راضی رہے۔اور شدید غم کے باوجود صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا۔حضرت چراغ بی بی صاحبہ کا مزار مبارک حضور کے قدیم خاندانی قبرستان میں موجود ہے جو قادیان کے مغرب میں مقامی عید گاہ کے پاس واقع ہے۔۴۔بیت اقصیٰ۔قادیان حضرت مسیح موعود کی عظیم دینی مہمات میں مدد کیلئے اللہ تعالیٰ نے 1875ء میں آپ کے والد محترم کے دل میں یہ خیال پیدا کیا کہ تمام عمر دنیا کے کاموں میں صرف کی ہے۔اب کوئی دینی خدمت بھی کی جائے۔چنانچہ انہوں نے قادیان میں ایک بڑی بیت الذکر تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔اور قصبے کے وسط میں ایک جگہ کا انتخاب کیا اور بڑے اخلاص کے ساتھ سات سورو پیادا کر کے بیت الذکرکی تعمیر کیلئے جگہ خرید لی۔یوں تعمیر کا کام شروع ہو گیا۔گاؤں میں چونکہ پہلے بھی کئی بیسوت الذکر موجود تھیں اور بیان سب سے بڑی بنائی جارہی تھی اس لئے اس وقت ایک شخص نے اعتراض کیا کہ اتنی بڑی بیت الذکر کی کیا ضرورت ہے؟ کس نے نماز پڑھنی ہے۔اس میں تو چمگادڑ ہی رہا کرینگے۔وہ شخص ظاہری حالات کو دیکھ کر یہ بات کہہ رہا تھا لیکن در حقیقت یہ کام خدائی تحریک کے ماتحت ایک عظیم مقصد کیلئے ہورہا تھا۔چنانچہ 1875ء میں مرزا غلام مرتضی صاحب نے اس بیت الذکر کا سنگ بنیاد رکھا اور جون 1876ء میں یکمل ہوگئی۔بعد ازاں مرز انظام مرتضی صاحب کی وفات کے بعد آپ کی وصیت کے مطابق آپ کو اس کے صحن میں دفن بھی کیا گیا۔۵۔آپ کے والد ماجد کا انتقال حضرت مسیح موعود کے والد حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب جون 1876ء میں انتقال فرما گئے۔حضور ان دنوں ایک مقدمہ کے سلسلے میں لاہور میں تھے کہ خواب میں آپ کو بتایا گیا کہ والد صاحب کی وفات کا وقت نزدیک ہے اس لئے جلد قا دیان