ضیاءالحق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 311 of 581

ضیاءالحق — Page 311

روحانی خزائن جلد ۹ ۳۱۱ ضیاءالحق میں چمک رہی ہے۔ چنانچہ چند روز ہوئے ہیں کہ ہم نے نور افشاں ۱۳ ستمبر ۱۸۹۵ء میں پر چہ بھارت سدھا ر ۲۴ / اگست ۱۸۹۵ء کا ایک مضمون پڑھا ہے جس میں صاحب پر چہ یہ لکھتا ہے کہ ایک سال اور بھی گذر گیا اور عبد اللہ آتھم اب تک زندہ موجود ہیں فقط ۔ جو لوگ ایسے خیالات شائع کرتے ہیں۔ ان کی حالت دوصورتوں سے خالی نہیں ﴿۲﴾ ایک تو یہ کہ شاید اب تک انہوں نے ہمارے رسالہ انوار الاسلام کو بھی نہیں دیکھا جس میں ان تمام وساوس کا جواب مفصل موجود ہے اور دوسری یہ کہ گو انہوں نے رسالہ انوار الاسلام کو دیکھا ہو بلکہ دوسرے تمام اشتہاروں کو بھی دیکھ لیا ہو مگر وہ تعصب جو آنکھوں کو اندھا کر دیتا اور دل کو تاریک کر دیتا ہے اس نے دیکھا ہوا بھی ان دیکھا کر دیا ہائے افسوس ان لوگوں کی عقل پر انہوں نے تو انسان بن کر انسانیت کو بھی داغ لگایا۔ بھلا ان سے کوئی پوچھے کہ ہم نے کب اور کس وقت کہا تھا کہ اگر عبد اللہ آتھم ہماری درخواست پر ہمارے سامنے وہ قسم نہیں کھائے گا جس کے الفاظ بارہا ہم نے اپنے اشتہاروں میں شائع کئے ہیں تب بھی وہ ضرور ایک سال تک مرجائے گا اور جب کہ ہم نے ایسا اشتہار کوئی شائع نہیں کیا بلکہ اس کا سال کے اندر فوت ہو جانا قسم کے ساتھ مشروط رکھا تھا۔ پس اس صورت میں تو اس کے ایک سال تک نہ مرنے کی وجہ سے ہماری ہی سچائی ثابت ہوئی کیونکہ اس نے اپنی اس گریز سے جو رجوع الی الحق پر ایک واضح دلیل تھی۔ کھلا کھلا فائدہ اٹھا لیا یہ الزام تو اس وقت زیبا تھا کہ وہ ہمارے مقابل پر میدان میں آ کر اس قسم کو بالفاظہ کھا لیتا جو ہم نے پیش کی تھی اور پھر سال کے اندرفوت نہ ہوتا ہم نے تو چار ہزار روپیہ پیش کر کے صاف صاف یہ کہہ دیا تھا کہ آتھم صاحب شرطی روپیہ پہلے جمع کرا لیں اور جلسہ عام میں تین مرتبہ یہ قسم کھاویں کہ پیشگوئی کے