ضیاءالحق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 312 of 581

ضیاءالحق — Page 312

روحانی خزائن جلد ۹ ۳۱۲ ضیاء الحق دنوں میں ہرگز میں نے اسلام کی طرف رجوع نہیں کیا اور ہرگز اسلام کی عظمت میرے دل پر مؤثر نہیں ہوئی اور اگر میں جھوٹ کہتا ہوں تو اے قادر خدا ایک سال تک مجھ کو موت دے کر میرا جھوٹ لوگوں پر ظاہر کر ۔ یہ مضمون تھا جو ہم نے نہ ایک مرتبہ بلکہ کئی مرتبہ شائع کیا اور ہم نے ایک ہزار سے چار ہزار تک انعام کی نوبت پہنچائی اور کئی دفعہ کہہ دیا تھا کہ یہ زبانی دعوی نہیں پہلے روپیہ جمع کر لو اور پھر قسم کھاؤ اور اگر ہم روپیہ داخل نہ کریں اور صرف فضول گوئی ثابت ہو تو پھر ہمارے جھوٹے ہونے کے لئے کسی اور دلیل کی حاجت نہیں لیکن کوئی ہمیں سمجھا دے کہ آتھم نے ان باتوں کا کیا جواب دیا کیا وہ میدان میں آیا کیا اس نے قسم کھا لی ۔ کیا اس نے ہم سے روپیہ کا مطالبہ کیا ۔ کیا اس نے اپنے اس بیان کو بپایہ ثبوت پہنچا دیا کہ میں ایام پیشگوئی میں ڈرتا تو ضرور رہا مگر اسلام کی عظمت سے نہیں بلکہ تین حملے بندوقوں اور تلواروں والوں نے میرے پر کئے جن میں سے پہلا حمله تعلیم یافتہ سانپ کا تھا جس نے امرتسر سے نکالا آپ لوگ جانتے ہیں کہ اس الہام کا صاف یہ مطلب تھا کہ صرف اس صورت میں آتھم صاحب پندرہ مہینہ میں ہادیہ میں گرائے جائیں گے کہ جب وہ حق کی طرف رجوع نہیں کریں گے اور آپ لوگوں کو اس بات کا بھی اقرار کرنا عقلاً و انصافاً ضروری ہے کہ اگر یہ بات سچ ہے کہ انہوں نے رجوع حبق کیا تھا تو پھر اس کا لازمی نتیجہ یہی تھا کہ وہ مرنے سے محفوظ رکھا جاتا کیونکہ اگر تب بھی مر جاتا تو اس میں کیا شک ہے کہ اس صورت میں پیشگوئی کی شرط جھوٹی ٹھہرتی بلکہ پیشگوئی