ضیاءالحق — Page 282
روحانی خزائن جلد ۹ کھڑے ہوں گے ۔ ۲۸۲ ضياء الحق صاحبو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر یہ جھگڑا دنیوی جھگڑوں کی طرح چیف کورٹ یا ہائی کورٹ کے اجلاس میں پیش ہوتا تو آخر بغور دیکھے جانے کے بعد ہمارے ہی حق میں فیصلہ ہوتا ۔ عزیز و ! آپ لوگوں پر لازم تھا کہ اس نور ایمان سے کام لے کر جو حضرت سیدنا مولانا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک بچے ایماندار کو خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا کیا ہے ۔ آتھم کے اس منصو بہ پر جو گویا اس پر تین حملے ہوئے نظر غور کرتے اور اس کو ملزم کرتے کہ جب تک وہ تعلیم یافتہ سانپ اور مسلح قاتلوں کا پتہ نہ لگاوے یا عدالت میں نالش نہ کرے یا قسم نہ کھا وے تب تک وہ قانون انصاف کی رو سے دروغ گو اور حق پوش ہے ۔ اور ہماری جماعت کے لئے تو تین حملوں کا الزام موجب زیادت ایمان اور یقین اور آتھم کے جھوٹے ہونے کا بد یہی ثبوت ہے ۔ کیونکہ ہر ایک شخص ہماری جماعت میں سے یقین دل سے جانتا ہے کہ ایسے حملوں کی مجھے تعلیم نہیں ہوئی ۔ اور نہ ایسا پلید مشورہ کبھی اس جماعت میں ہوا ۔ ہم اپنی تمام جماعت کو فر دفر د کر کے اس وقت مخاطب کرتے ہیں کہ کیا ان کو ایسی صلاح دی گئی کہ تم کوئی زہریلا اور کالا سانپ لے کر اور اس کو خوب تعلیم دے کر آتھم کو ڈسنے کے لئے اس کی کوٹھی میں چھوڑ دو ۔ اگر وہاں موقعہ نہ پاؤ تو پھر لودھیا نہ میں جا کر اور اگر وہاں بھی موقعہ نہ ملے تو پھر فیروز پور میں جا کر کام تمام کر دو۔ ہم پھر کہتے ہیں کہ اگر کسی کو ہم نے کبھی ایسا مشورہ دیا ہے