ضیاءالحق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 281 of 581

ضیاءالحق — Page 281

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۸۱ ضیاء الحق خاموش رہیں ، نہ گورنمنٹ میں ان حملوں کی شکایت لے جائیں اور نہ تھا نہ میں رپورٹ دیں اور نہ حاکم ضلع کے پاس نالش کریں اور نہ ہمارا مچلکہ عدالت میں داخل کرائیں اور نہ میعاد کے اندر اخباروں میں اس واقعہ کا اشتہار دیں اور نہ باوجود ہمارے چار ہزار روپیہ نقد پیش کرنے کے قسم کھاویں اور چار ہزار روپیہ لے کر ہمیں سزا دیں ۔ صاحبو آپ اللہ سوچو کہ آخر مر جانا اور اس نابکار دنیا کو چھوڑ جانا ہے اور ذرہ غور کرو کہ جس شخص پر یہ ظلم ہو کہ موت کی خبر سنا کر نا حق اس کا دل ستایا جائے اور پھر اسی دل آزاری پر کفایت نہ ہو بلکہ برابر اس پر تین حملے بھی ہوں ۔ اور معاملہ مذہبی ہو جس میں بالطبع تعصب بڑھ جاتے ہیں کیا ایسی صورت میں آپ قبول کر لیں گے کہ یہ سب کچھ واقعہ ہوا مگر آ تھم اور اس کے دوستوں نے نہ چاہا کہ بدی کے مقابل پر بدی کریں ۔ پھر صاحبو یہ بھی سوچو کہ دنیا میں کوئی دعوی بغیر ثبوت کے قابل پذیرائی نہیں ہوتا ۔ پس ایسا دعوئی جو خود خلاف قیاس اور غیر معقول ہو اور جس کے افترا کرنے کے لئے عیسائیوں کو ضرورتیں پیش آئی تھیں (۲۵) وہ کیوں بغیر ثبوت پیش کرنے کے قبول کیا جاتا ہے۔ آتھم صاحب نالش نہیں کرتے کہ یہ نیک بختی کا تقاضا نہیں قسم نہیں کھاتے کہ مذہب میں ہمارے قسم ایسی ہے جیسے مسلمانوں میں خنزیر کھانا۔ کوئی اور ثبوت نہیں دیتے کہ ہم اب لڑنا اور جھگڑنا نہیں چاہتے پس کیا اب یہ تمام بے ثبوت با تیں آٹھم صاحب کی قبول کر لو گے اور کیا آپ کی یہ رائے ہے کہ ہماری سب باتیں جھوٹی اور آتھم صاحب کی یہ ساری کہانیاں سچی ہیں۔ اگر یہی بات ہے تو ہم آپ لوگوں سے اعراض کرتے ہیں جب تک کہ وہ دن آوے کہ رب العرش کے سامنے ہم سب لوگ