تحفہٴ بغداد — Page xxiv
قاعدہ کے مطابق کہ عدد مذکر اور معدود مفرد ہو۔قطعنا ھم اثنی عشر سبطاً اور آیت والمطلقات یَتَرَبَّصْنَ بانفسھن ثلاثۃ قروءٍ میں اقرءٍ یا اقراءٍ جمع قلّت کا صیغہ استعمال ہونا چاہئے تھا۔اِسی طرح ایامًا معدودات کی بجائے ایامًا معدودۃ۔(۳) ضمائر کی غلطیاں جیسے آیت ہٰذان خصمان اختصموا میں اختصما۔اور اسروا النجوی الذین ظلموا میں اَسَرَّ۔اور آیت وان طائفتان من المؤمنین اقتتلوا میں اقتتلا اور آیت ان لکم فی الانعام لعبرۃ نسقیکم مما فی بطونہ میں بطونھا ہونا چاہئے۔(۴) پھر بعض آیتیں پہلوں کے اقوال سے ماخوذ ہیں۔مثلاً آیت فاذا انشقت السماء فکانت وردۃ کالدھان عنتر کے شعر۔وان ام الارض صارت وردۃ مثل الدھان سے اور آیت خلق الانسان من صلصال کالفخار۔امیہ بن الصلت کے شعر کیف الجحود و انما خلق الفتی من طین صلصال لہ فخار سے ماخوذ ہے۔۱ الغرض عیسائیوں نے قرآن مجید کو غیر فصیح اور نحوی و صرفی غلطیوں سے غیر مبّرا قرار دے کر اس کے کلامِ الٰہی ہونے سے انکار کیا ہے۔ہمارے نزدیک ان کے یہ سب اعتراضات لغو اور باطل ہیں اور اصح اور افصح اور ابلغ عربی زبان وہی ہے جو قرآن مجید کی زبان ہے۔اور عربی زبان سے متعلق اسی سوال کا جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو تحریر فرمایا ہے وہ بالکل صحیح اور درست ہے۔حضورؑ فرماتے ہیں:۔’’بعض نادانوں نے قرآن شریف پر بھی اپنی مصنوعی نحو کو پیش نظر رکھ کر اعتراض کئے ہیں مگر یہ تمام اعتراض بے ہودہ ہیں۔زبان کا علمِ وسیع خدا کو ہے نہ کسی اور کو۔اور زبان جیسا کہ تغیّر مکانی سے کسی قدر بدلتی ہے۔ایسا ہی تغیر زمانی سے بھی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔آج کل کی عربی زبان کا اگر محاورہ دیکھا جائے جو مصر اور مکّہ اور مدینہ اور دیارِ شام وغیرہ میں بولی جاتی ہے تو گویا وہ محاورہ صرف و نحو کے تمام قواعد کی بیخ کنی کر رہا ہے اور ممکن ہے کہ اس قسم کا محاورہ کسی زمانہ میں پہلے بھی گذر چکا ہو۔۔۔۔۔۔