تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxv of 417

تحفہٴ بغداد — Page xxv

لُغتِ عرب جو صرف و نحو کی اصل کُنجی ہے وہ ایک ایسا ناپیدا کنار دریا ہے جو اُس کی نسبت امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے کہ لایعلمہ الاّنبیّ یعنی اس زبان کو اور اس کے انواع اقسام کے محاورات کو بجز نبی کے اَور کوئی شخص کامل طور پر معلوم ہی نہیں کر سکتا۔اس قول سے بھی ثابت ہوا کہ اس زبان پر ہریک پہلو سے قدرت حاصل کرنا ہر ایک کا کام نہیں بلکہ اس پر پورا احاطہ کرنا معجزاتِ انبیاء علیہم السَّلام سے ہے۔‘ ‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۴۳۶،۴۳۷) اِسی طرح جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مخالف علماء کو جو آپؐ کو جاہل اور خود کو عالم خیال کرتے تھے مقابلہ کے لئے دعوت پر دعوت دی اور چیلنج پر چیلنج کیا تو اُن کا جواب بھی وہی تھا جو مخالفینِ قرآن مجید نے دیا تھا۔مخالف علماء کا جواب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عربی کلام کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔’’حقیقت شناس اس عبارت سے اس کا جاہل ہونا اور کوچۂ عربیت سے اس کا نابلد ہونا اور دعویٰ الہام میں کاذب ہونا نکالتے ہیں اور وہ خوب سمجھتے ہیں کہ یہ عبارت عرب کی عربی نہیں اور اس کی فقرہ بندی محض بے معنی تُک بندی ہے۔اِس میں بہت سے محاورات و الفاظ کادیانی نے از خود گھڑلئے ہیں۔عرب عرباء سے وہ منقول نہیں اور جو اس کے عربی الفاظ و فقرات ہیں اُن میں اکثر صرف و نحو و ادب کے اصول و قواعد کی رُو سے اس قدر غلطیاں ہیں کہ ان اغلاط کی نظر سے اُن کو مسخ شدہ عربی کہنا بے جا نہیں۔اور ان کے راقم کو عربی سے جاہل اور الہام و کلامِ الٰہی سے مشرف و مخاطب ہونے سے عاطل کہنا زیبا ہے۔‘‘ (اشاعۃ السنّۃ۔جلد۱۵ نمبر۱۳ صفحہ ۳۱۶ نیز دیکھو اشاعۃ السنّۃ۔جلد۱۵ نمبر۸ صفحہ ۱۹۱)