تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxiii of 417

تحفہٴ بغداد — Page xxiii

وقت میں صد ہا بنے بنائے فقرات وحی متلو کی طرح دل پر وارد ہوتے ہیں اور یا یہ کہ کوئی فرشتہ ایک کاغذ پر لکھے ہوئے وہ فقرات دکھا دیتا ہے اور بعض فقرات آیاتِ قرآنی ہوتے ہیں یا اُن کے مشابہ کچھ تھوڑے تصرّف سے۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۴۳۴،۴۳۵) پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلا م کا فصیح و بلیغ عربی میں کتابیں لکھنا تائید الٰہی سے تھا آپ کے اکتسابی علم کا نتیجہ نہ تھا۔یہی وجہ ہے کہ مخالفین علماء نے آپ کے اس چیلنج کو کہ وہ بھی آپ کے مقابلہ میں آپ جیسے رسائل و کتب لکھیں قبول کرنے کی بجائے ویسے ہی اعتراضات کئے جیسے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے مخالفین نے قرآنی چیلنج کے جواب میں کئے تھے کیونکہ وہ بھی جانتے تھے کہ ایسا فصیح و بلیغ اور پُراز حقائق و دقائق کلام آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم جیسے امّی شخص کا کام نہیں ہو سکتا۔اِس لئے ایک طرف تو انہوں نے کہا ’’انّما یعلّمہ بشر‘‘کہ اسے کوئی اور بشر سکھاتا ہے۔’’واعانہ علیہ قوم اٰخرون‘‘ یعنی دوسرے اَور لوگ ہیں جو قرآن کی تالیف میں آپ کی اعانت کررہے ہیں۔اور دوسری طرف یہ کہا کہ’’لونشاء لقلنا مثل ھٰذا۔ان ھٰذا الاّ اساطیر الاوّلین‘‘ یعنی اگر ہم چاہیں تو ہم ایسا کلام کہہ سکتے ہیں لیکن ہم اس لئے اس طرف توجہ نہیں دیتے کہ اِس میں پہلوں کے قصّوں اور سٹوریوں کے سوا رکھا ہی کیا ہے۔اور بعد میں آنے والے مخالف عیسائیوں نے یہ بھی لکھنا شروع کیا کہ قرآن مجید تو فصیح و بلیغ بھی نہیں اور اس میں نحوی و صرفی بہت سی غلطیاں پائی جاتی ہیں۔مثال کے طور پر عیسائیوں کی ایک مصر میں بزبان عربی طبع شدہ کتاب سے چند اغلاط کا ذکر کرتا ہوں۔(۱) قرآن مجید میں ایسا کلام موجود ہے جو نہ فصیح ہے نہ بلیغ جیسے الم اعہد الیکم کیونکہ اِس میں تنافر پایا جاتا ہے۔غریب الفاظ کی مثال جیسے کوثر کہ اس کے معنے صحابہؓ کو معلوم نہ تھے۔اور قیاس کے مخالف جیسے انبتکم من الارض نباتا کیونکہ قیاس اِنْبَاتًاچاہتا ہے۔پھر جو سُننے میں اچھا نہ لگے جیسے ضِیْزٰی جو جَرْشٰی کی طرح ہے۔(۲) نحوی لحاظ سے آیت والموفون بعہدھم اذا عاہدوا والصٰبرین میں الصابرون اور آیت وامرأتہ حمالۃَ الحطب میں حمالۃ منصوب کی بجائے مرفوع اور ان الذین اٰمنوا والذین ھادوا والصابؤن (المائدہ) میں اِنّ کا اسم ہونے کی وجہ سے والصابئین ہونا چاہئے۔اِسی طرح آیت ولٰکن البّر من اٰمن میں ان تؤمنوا۔اور آیت قطعنا ھم اثنتی عشرۃ اسباطاً اممًا میں عام نحوی