تحفہٴ بغداد — Page xxii
یعنی جو کچھ مَیں نے اپنی کمال بلاغتِ بیانی سے کہا ہے تو وہ کتاب قرآن مجید سے دوسرے درجہ پر ہے۔پھر انشا پردازی کے وقت تائید الٰہی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔’’یہ بات بھی اس جگہ بیان کر دینے کے لائق ہے کہ مَیں خاص طور پر خدا تعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشاء پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں کیونکہ جب مَیں عربی میں یا اردو میں کوئی عبارت لکھتاہوں تو مَیں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے اور ہمیشہ میری تحریر گو عربی ہو یا اردو یا فارسی دو حصّہ پر منقسم ہوتی ہے۔(۱) ایک تو یہ کہ بڑی سہولت سے سِلسلہ الفاظ اور معا نی کا میرے سامنے آ جاتا ہے اور مَیں اُس کو لکھتا جاتا ہوں اور گو اس تحریر میں مجھے کوئی مشقت اٹھانی نہیں پڑتی مگر دراصل وہ سِلسلہ میری دماغی طاقت سے کچھ زیادہ نہیں ہوتا یعنی الفاظ اور معانی ایسے ہوتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کی ایک خاص رنگ میں تائید نہ ہوتی تب بھی اس کے فضل کے ساتھ ممکن تھا کہ اس کی معمولی تائید کی برکت سے جو لازمۂ فطرت خواص انسانی ہے کسی قدر مشقت اٹھا کر اور بہت سا وقت لے کر اُن مضامین کو مَیں لکھ سکتا۔واﷲ اعلم۔(۲) دوسرا حصہ میری تحریر کا محض خارق عادت کے طور پر ہے اور وہ یہ ہے کہ جب مَیں مثلاً ایک عربی عبارت لکھتا ہوں اور سلسلہ عبارت میں بعض ایسے الفاظ کی حاجت پڑتی ہے کہ وہ مجھے معلوم نہیں ہیں تب اُن کی نسبت خدا تعالیٰ کی وحی رہنمائی کرتی ہے اور وہ لفظ وحی متلو کی طرح رُوح القدس میرے دل میں ڈالتا ہے اور زبان پر جاری کرتا ہے ا ور اُس وقت مَیں حِسّ سے غائب ہوتا ہوں مثلاً عربی عبارت کے سِلسلۂ تحریر میں مجھے ایک لفظ کی ضرورت پڑی جو ٹھیک ٹھیک بسیارئ عیال کا ترجمہ ہے اور وہ مجھے معلوم نہیں اور سِلسلۂ عبارت اس کا محتاج ہے تو فی الفور دل میں وحی متلو کی طرح لفظ ضفف ڈالا گیا جس کے معنے ہیں بسیارئ عیال۔یا مثلاً سِلسلۂ تحریر میں مجھے ایسے لفظ کی ضرورت ہے جس کے معنے ہیں غم و غصہ سے چُپ ہو جانا اور مجھے وہ لفظ معلوم نہیں تو فی الفور دل پر وحی ہوئی کہ’’ وجوم‘‘ ایسا ہی عربی فقرات کا حال ہے۔عربی تحریروں کے