تحفۂ گولڑویہ — Page 52
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۵۲ ضمیمه تحفه گولز و به نظیر پیش کریں۔ افسوس کا مقام ہے کہ میرے دعوے کی نسبت جب میں نے مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا مخالفوں نے نہ آسمانی نشانوں سے فائدہ اٹھایا اور نہ زمینی نشانوں سے کچھ ہدایت حاصل کی ۔ خدا نے ہر ایک پہلو سے نشان ظاہر فرمائے پر دنیا کے فرزندوں نے ان کو قبول نہ کیا ۔ اب خدا کی اور ان لوگوں کی ایک کشتی ہے یعنی خدا چاہتا ہے کہ اپنے بندہ کی جس کو اس نے بھیجا ہے روشن دلائل اور نشانوں کے ساتھ سچائی ظاہر کرے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ تباہ ہو اس کا انجام بد ہو اور وہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہلاک ہو اور اس کی جماعت متفرق اور نابود ہو تب یہ لوگ ہنسیں اور خوش ہوں اور ان لوگوں کو تمسخر سے دیکھیں جو اس سلسلہ کی حمایت میں تھے اور اپنے دل کو کہیں کہ تجھے مبارک ہو کہ آج تو نے اپنے دشمن کو ہلاک ہوتے دیکھا اور اس کی جماعت کو تتر بتر ہوتے مشاہدہ کر لیا مگر کیا اُن کی مرادیں پوری ہو جائیں گی اور کیا ایسا خوشی کا دن اُن پر آئے گا ؟ اس کا یہی جواب ہے کہ اگر اُن کے امثال پر آیا تھا تو ان پر بھی آئے گا۔ ابو جہل نے جب بدر کی لڑائی میں یہ دُعا کی تھی کہ اللهم من كان منا كاذبا فاحنه في هذا الموطن یعنی اے خدا ہم دونوں میں سے جو محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اور میں ہوں جو شخص تیری نظر میں جھوٹا ہے اُس کو اسی موقع قتال میں ہلاک کر ۔ تو کیا اس دعا کے وقت اُس کو گمان تھا کہ میں جھوٹا ہوں ؟ اور جب لیکھرام نے کہا کہ میری بھی مرزا غلام احمد کی موت کی نسبت ایسی ہی پیشگوئی ہے جیسا کہ اس کی ۔ اور میری پیشگوئی پہلے پوری ہو جائے گی اور وہ مرے گا تو کیا اُس کو اس وقت اپنی نسبت گمان ☆ ایسا ہی جب مولوی غلام دستگیر قصوری نے کتاب تالیف کر کے تمام پنجاب میں مشہور کر دیا تھا۔ کہ میں نے یہ طریق فیصلہ قرار دے دیا ہے کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرجائے گا تو کیا اُس کو خبر تھی کہ یہی فیصلہ اس کے لئے لعنت کا نشانہ ہو جائے گا ۔ اور وہ پہلے مر کر دوسرے ہم مشربوں کا بھی منہ کالا کرے گا اور آئندہ ایسے مقابلات میں اُن کے منہ پر مہر لگا دے گا اور بز دل بنا دے گا ۔ منہ