تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 51 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 51

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۵۱ ضمیمه تحفه گوار و یه مخالفین پر حجت پوری کی ہے ۔ اسی طرح میں چاہتا ہوں کہ آیت لو تقول کے متعلق بھی حجت پوری ہو جائے ۔ اسی جہت سے میں نے اس اشتہار کو پانسو روپیہ کے انعام کے ساتھ شائع کیا ہے اور اگر تسلی نہ ہو تو میں یہ روپیہ کسی سرکاری بنک میں جمع کرا سکتا ہوں ۔ اگر 10 حافظ محمد یوسف صاحب اور اُن کے دوسرے ہم مشرب جن کے نام میں نے اس اشتہار میں لکھتے ہیں اپنے اس دعوے میں صادق ہیں یعنی اگر یہ بات صحیح ہے کہ کوئی شخص نبی یا رسول اور مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کر کے اور کھلے کھلے طور پر خدا کے نام پر کلمات لوگوں کو سنا کر پھر با وجود مفتری ہونے کے برابر تیس برس تک جو زمانہ وحی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہے زندہ رہا ہے تو میں ایسی نظیر پیش کرنے والے کو بعد اس کے کہ مجھے میرے ثبوت کے موافق یا قرآن کے ثبوت کے موافق ثبوت دے دے پانسور و پیہ نقد دے دوں گا۔ اور اگر ایسے لوگ کئی ہوں تو ان کا اختیار ہوگا کہ وہ روپیہ با ہم تقسیم کر لیں ۔ اس اشتہار کے نکلنے کی تاریخ سے پندرہ روز تک اُن کو مہلت ہے کہ دنیا میں تلاش کر کے ایسی ہے اس زمانہ کے بعض نادان کئی دفعہ شکست کھا کر پھر مجھ سے حدیثوں کی رو سے بحث کرنا چاہتے ہیں یا بحث کرانے کے خواہشمند ہوتے ہیں مگر افسوس کہ نہیں جانتے کہ جس حالت میں وہ اپنی چند ایسی حدیثوں کو چھوڑنا نہیں چاہتے جو محض ظنیات کا ذخیرہ اور مجروح اور مخدوش ہیں اور نیز مخالف اُن کے اور حدیثیں بھی ہیں اور قرآن بھی ان حدیثوں کو جھوٹی ٹھہراتا ہے تو پھر میں ایسے روشن ثبوت کو کیونکر چھوڑ سکتا ہوں جس کی ایک طرف قرآن شریف تائید کرتا ہے اور ایک طرف اس کی سچائی کی (10) احادیث صحیحہ گواہ ہیں اور ایک طرف خدا کا وہ کلام گواہ ہے جو مجھ پر نازل ہوتا ہے اور ایک طرف پہلی کتا بیں گواہ ہیں اور ایک طرف عقل گواہ ہے۔ اور ایک طرف وہ صد ہانشان گواہ ہیں جو میرے ہاتھ سے ظاہر ہورہے ہیں۔ پس حدیثوں کی بحث طریق تصفیہ نہیں ہے۔ خدا نے مجھے اطلاع دے دی ہے کہ یہ تمام حدیثیں جو پیش کرتے ہیں تحریف معنوی یا لفظی میں آلودہ ہیں اور یا سرے سے موضوع ہیں۔ اور جو شخص حکم ہو کر آیا ہے اس کا اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رڈ کرے۔ منہ