تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 53

۵۳ روحانی خزائن جلد۱۷ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ تھا کہ میں جھوٹا ہوں؟ پس منکر تو دنیا میں ہوتے ہیں پر بڑا بد بخت وہ منکر ہے جو مرنے سے 11 کے پہلے معلوم نہ کر سکے کہ میں جھوٹا ہوں۔ پس کیا خدا پہلے منکروں کے وقت میں قادر تھا اور اب نہیں؟ نعوذ باللہ ہرگز ایسا نہیں بلکہ ہر ایک جو زندہ رہے گا وہ دیکھ لے گا کہ آخر خدا غالب ہوگا۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ وہ خدا جس کا قومی ہاتھ زمینوں اور آسمانوں اور اُن سب چیزوں کو جو اُن میں ہیں تھامے ہوئے ہے وہ کب انسان کے ارادوں سے مغلوب ہو سکتا ہے اور آخر ایک دن آتا ہے جو وہ فیصلہ کرتا ہے۔ پس صادقوں کی یہی نشانی ہے کہ انجام انہی کا ہوتا ہے۔ خدا اپنی تجلیات کے ساتھ اُن کے دل پر نزول کرتا ہے پس کیونکر وہ عمارت منہدم ہو سکے جس میں وہ حقیقی بادشاہ فروکش ہے۔ ٹھٹھا کرو جس قدر چاہو گالیاں دو جس قدر چا ہو اور ایذا اور تکلیف دہی کے منصوبے سوچو جس قدر چاہو اور میرے استیصال کے لئے ہر ایک قسم کی تدبیر میں اور مکر سوچو جس قدر چاہو ۔ پھر یا درکھو کہ عنقریب خدا تمہیں دکھلا دے گا کہ اس کا ہاتھ غالب ہے۔ نادان کہتا ہے کہ میں اپنے منصوبوں سے غالب ہو جاؤں گا مگر خدا کہتا ہے کہ اے لعنتی دیکھ میں تیرے سارے منصوبے خاک میں ملا دوں گا۔ اگر خدا چاہتا تو ان مخالف مولویوں اور ان کے پیروؤں کو آنکھیں بخشا۔ اور وہ ان وقتوں اور موسموں کو پہچان لیتے جن میں خدا کے مسیح کا آنا ضروری تھا۔ لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیشگوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دُکھ اُٹھائے گا وہ اُس کو کافر قرار دیں گے اور اُس کے قتل کے لئے فتوے دیئے جائیں گے اور اس کی سخت تو ہین کی جائے گی اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔ سو ان دنوں میں وہ پیشگوئی انہی مولویوں نے اپنے ہاتھوں سے پوری کی۔ افسوس یہ لوگ سوچتے نہیں کہ اگر یہ دعوئی خدا کے امر اور ارادہ سے نہیں تھا تو کیوں اس مدعی میں پاک اور صادق نبیوں کی طرح بہت سے سچائی کے دلائل جمع ہو گئے ۔ کیا وہ رات ان کے لئے ماتم کی رات نہیں تھی جس میں میرے دعوئی