تحفۂ گولڑویہ — Page 318
روحانی خزائن جلد۱۷ ۳۱۸ تحفہ گولڑویہ (۱۳۲) رجعت بروزی کے زمانہ پر دلیل قاطع ہے کیونکہ یا جوج ماجوج کا ظہور استدارت زمانہ پر اور سب نے یہی وقت ٹھہرایا ہے اور اس کی یہ دونوں صفتیں قائم کی ہیں یعنی سوروں کو مارنے والا اور گائیوں کی حفاظت کرنے والا اور وہ میں ہوں جس کی نسبت ہندوؤں میں پیشگوئی کرنے والے قدیم سے زور دیتے آئے ہیں کہ وہ آریہ ورت میں یعنی اسی ملک ہند میں پیدا ہوگا اور انہوں نے اس کے مسکن کے نام بھی لکھے ہیں مگر وہ تمام نام استعارہ کے طور پر ہیں جن کے نیچے ایک اور حقیقت ہے اور لکھتے ہیں کہ وہ برہمن کے گھر میں جنم لے گا یعنی وہ جو برہم کو سچا اور واحد لاشریک سمجھتا ہے یعنی مسلمان۔ غرض کسی اوتار یا پیغمبر کے دوبارہ آنے کا عقیدہ جور و در گوپال کے صفات اپنے اندر رکھتا ہو اور ہجرت کی چودھویں صدی میں آنے والا ہو صرف عیسائیوں اور مسلمانوں کا عقیدہ نہیں بلکہ ہندوؤں اور تمام اہل مذاہب کا یہی عقیدہ ہے۔ یہاں تک کہ زندوستا کے پیرو بھی اس زمانہ کی نسبت یہی عقیدہ رکھتے ہیں اور بدھ مذہب کی نسبت مجھے مفصل معلوم نہیں مگر کہتے ہیں کہ وہ بھی ایک کامل بدھ کے اس زمانہ میں منتظر ہیں اور عجیب تریہ کہ سب فرقے رو در گوپال کی صفت اُس منتظر میں قائم کرتے ہیں لیکن افسوس کہ عام لوگ اس دوبارہ آنے کے عقیدہ کی فلاسفی سے اب تک بے خبر پائے جاتے ہیں اور عام تو عام جو لوگ اس زمانہ میں علماء کہلاتے ہیں وہ بھی اس فلاسفی سے بے خبر ہیں۔ یوں تو اسلام کے تمام صوفی رجعت بروزی کے مسئلہ کے بڑے زور سے قائل ہیں اور بعض اولیاء کی نسبت مانتے ہیں کہ کسی پہلے ولی کی روح دوبارہ بروزی طور پر اُس میں آئی مثلاً وہ کہتے ہیں کہ قریباً سو برس کے بعد بایزید بسطامی کی روح دوبارہ بروزی طور پر ابوالحسن خرقانی میں آگئی لیکن باوجود اس مقبول مسلم عقیدہ کے پھر بھی بعض نادان مسیح کے دوبارہ آنے کی نسبت رجعت بروزی کے قائل نہیں جو قدیم سے سنت اللہ میں داخل ہے۔ وہ لوگ دراصل