تحفۂ گولڑویہ — Page 319
روحانی خزائن جلد۱۷ ۳۱۹ تحفہ گولڑ و به دلیل ہے اور استدارت زمانہ رجعت بروزی کو چاہتا ہے۔ سو میح عیسی بن مریم کی نسبت رجعت بروزی کی فلاسفی سے بے خبر ہیں۔ اور اس مسئلہ کی فلاسفی یہ ہے کہ خدا تعالی نے ہر ایک چیز کو ایسی طرز سے بنایا ہے جو اس کی توحید پر دلالت کرے اور اسی وجہ سے خداوند حکیم نے تمام عناصر اور اجرام فلکی کو گول شکل پر پیدا کیا ہے کیونکہ گول چیز کی جہات اور پہلو نہیں اس لئے وہ ۱۳۱ ) وحدت سے مناسبت رکھتی ہے۔ اگر خدا تعالی کی ذات میں تثلیث ہوتی تو تمام عناصر اور اجرام فلکی سه گوشہ صورت پر پیدا ہوتے لیکن ہر ایک بسیط میں جو مرکبات کا اصل ہے گرویت یعنی گول ہونا مشاہدہ کرو گے۔ پانی کا قطرہ بھی گول شکل پر ظاہر ہوتا ہے اور تمام ستارے جو نظر آتے ہیں اُن کی شکل گول ہے اور ہوا کی شکل بھی گول ہے جیسا کہ ہوائی گولے جن کو عربی میں اغصار کہتے ہیں یعنی بگولے جو کسی تند ہوا کے وقت مدور شکل میں زمین پر چکر کھاتے پھرتے ہیں ہواؤں کی کرویت ثابت کرتے ہیں۔ پس جیسا کہ تمام بسالک جن کو خدا تعالیٰ نے پیدا کیا کروی الشکل ہیں ایسا ہی دائرہ خلقت عالم کا بھی کروی شکل ہے اسی لئے صوفی اس بات کی طرف گئے ہیں کہ خلقت بنی آدم اپنی وضع میں دوری صورت پر واقع ہوئی ہے یعنی نوع انسان کی روحیں بروزی طور پر پھر پھر کر دنیا میں آتی ہیں اور جبکہ خلقت بنی آدم بھی دوری صورت پر ہے تا وحدت رجعت بروزی کے اعلیٰ قسم صرف دو ہیں (۱) بروز الاشقیاء (۲) بروز السعداء ۔ یہ دونوں بروز قیامت تک سنت اللہ میں داخل ہیں ہاں یا جوج ماجوج کے بعد ان کی کثرت ہے تا بنی آدم کے انجام پر ایک دلیل ہو اور تا اس سے دور کا پورا ہونا سمجھا جائے ۔ اور یہ خیال کرنا کہ کوئی ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ تمام لوگ اور تمام طبائع ملت واحدہ پر ہو جائیں گی یہ غلط ہے۔ جس حالت میں اللہ تعالیٰ بنی آدم کی تقسیم یہ فرماتا ہے کہ مِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ تو ممکن نہیں کہ کسی زمانہ میں صرف سعید رہ جائیں اور شقی تمام مارے جائیں اور نیز یہ فرمایاہے وَ لِذلِكَ خَلَقَهُمْ یعنی اختلاف انسانوں کی فطرت میں رکھا گیا ہے۔ پس جبکہ انسانوں کی فطرت کثرت مذاہب کو چاہتی ہے تو پھر وہ ایک مذہب پر کیوں کر ہو سکتے ہیں خدا نے ابتدا میں ہی قابیل ہابیل هود ۱۰۶ هود ۱۲۰