تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 317 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 317

روحانی خزائن جلد۱۷ ۳۱۷ تحفہ گولڑویہ نی یا جوج ماجوج کے وجود سے کمال کو پہنچتا ہے لہذا یا جوج ماجوج کے ظہور کا زمانہ ۱۳۱ کے کرشن کی صفات کی نسبت استعارہ ہے کہ وہ درندوں کو ہلاک کرتا تھا یعنی سوروں اور بھیٹریوں کو ۔ (۱۳۰) اور گائیوں کو پالتا تھا یعنی نیک آدمیوں کو ۔ اور عجیب بات ہے کہ مسلمان اور عیسائی بھی آنے والے مسیح کی نسبت یہی صفات رو در گوپال کے جو کلکی اوتار کی صفت ہے قائم کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ سوروں کو قتل کرے گا اور بیل اس کے وقت میں قابل قدر ہوں گے ۔ اس جگہ یہ مراد نہیں ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے سوروں کو قتل کرے گا یا گائیوں کی حفاظت کرے گا بلکہ یہ مراد ہے کہ زمانہ کا دور ہی ایسا آ جائے گا اور آسمانی ہوا شریروں کو نابود کرتی جائے گی اور نیک بڑھیں گے اور پھولیں گے اور زمین کو پُر کریں گے ۔ تب اس صحیح پر رو در گوپال کا اسم صادق آجائے گا ۔ اور میں جو وہی مسیح اور مظہر صفات مذکورہ ہوں اس لئے کشفی طور پر ایک مرتبہ مجھے ایک شخص دکھایا گیا گویا وہ سنسکرت کا ایک عالم آدمی ہے جو کرشن کا نہایت درجہ معتقد ہے وہ میرے سامنے کھڑا ہوا اور مجھے مخاطب کر کے بولا کہ ہے رو در گوپال تیری استنت گیتا میں لکھی ہے۔ اس وقت میں نے سمجھا کہ تمام دنیا ایک روڈ رگو پال کا انتظار کر رہی ہے کیا ہندو اور کیا مسلمان اور کیا عیسائی۔ مگر اپنے اپنے لفظوں اور زبانوں میں۔ واضح ہو کہ خدا تعالیٰ نے کشفی حالت میں بارہا مجھے اس بات پر اطلاع دی ہے کہ آریہ قوم میں کرشن نام ایک شخص جو گذرا ہے وہ خدا کے برگزیدوں اور اپنے وقت کے نبیوں میں سے تھا اور ہندووں میں اوتار کا لفظ در حقیقت نبی کے ہم معنے ہے اور ہندوؤں کی کتابوں میں ایک پیشگوئی ہے اور وہ یہ کہ آخری زمانہ میں ایک اوتار آئے گا جو کرشن کے صفات پر ہوگا اور اس کا بروز ہوگا اور میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ میں ہوں ۔ کرشن کی دو صفت میں ایک روڈر یعنی درندوں اور سوروں کو قتل کرنے والا یعنی دلائل اور نشانوں سے۔ دوسرے گوپال یعنی گائیوں کو پالنے والا یعنی اپنے انفاس سے نیکیوں کا مددگار ۔ اور یہ دونوں صفتیں مسیح موعود کی صفتیں ہیں اور یہی دونوں صفتیں خدا تعالی نے مجھے عطا فرمائی ہیں۔ منہ حاشیه در حاشیه