تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 295 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 295

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۹۵ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ تحفہ گولڑو به ہم نے مناسب سمجھا ہے کہ اپنے دعوے کے متعلق جس قدر ثبوت ہیں اجمالی طور پر ان کو اس جگہ اکٹھا کر دیا جائے۔ سو اوّل تمہیدی طور پر اس بات کا لکھنا ضروری ہے کہ میرا دعویٰ یہ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابوں میں پیشگوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔ ہمارے علماء کا یہ خیال ہے کہ وہی مسیح عیسی ابن مریم جس پر انجیل نازل ہوئی تھی آخری زمانہ میں آسمان پر سے نازل ہوگا۔ لیکن ظاہر ہے کہ قرآن شریف اس خیال کے مخالف ہے اور آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمُ اور آیت كَانَا يَأْكُلْنِ الطَّعَامَ : اور آیت مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ " اور آیت فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ " اور دوسری تمام آیتیں جن کا ہم اپنی کتابوں میں ذکر کر چکے ہیں اس امر پر قطعی الدلالت ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور ان کی موت کا انکار قرآن سے انکار ہے اور پھر اس کے بعد اگر چہ اس بات کی ضرورت نہیں کہ ہم احادیث سے حضرت مسیح کی وفات کی دلیل ڈھونڈیں لیکن پھر بھی جب ہم حدیثوں پر نظر ڈالتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ کافی حصہ اس قسم کی حدیثوں کا موجود ہے جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک سو بیس برس عمر لکھی ہے اور جن میں بیان کیا گیا ہے کہ اگر عیسی اور موسیٰ زندہ ہوتے تو میری پیروی کرتے ۔ اور جن میں لکھا گیا ہے کہ اب حضرت عیسی علیہ السلام وفات یافتہ روحوں میں داخل ہیں۔ چنانچہ معراج کی تمام حدیثیں جو صیح بخاری میں ہیں وہ اس بات پر گواہ ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام معراج کی رات میں وفات شدہ روحوں میں دیکھے گئے۔ اور سب سے بڑھ کر حدیثوں کے رو سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ تمام صحابہ کا اس پر اجماع ہو گیا تھا کہ گذشته تمام نبی جن میں حضرت عیسی بھی داخل ہیں سب کے سب فوت ہو چکے ہیں۔ اس المائدة : ١١٨ المائدة : ۷۶ ال عمران : ۱۴۵ الاعراف : ٢٦