تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 296 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 296

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۹۶ تحفہ گولڑویہ اجماع کا ذکر صحیح بخاری میں موجود ہے جس سے ایک صحابی بھی باہر نہیں ۔ اب اس طالب حق کے لئے جو خدا تعالیٰ سے ڈرتا ہے حضرت مسیح کی وفات کے بارے میں زیادہ ثبوت کی ضرورت نہیں۔ ماسوا اس کے خود حضرت عیسی علیہ السلام انجیل میں اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ میری آمد ثانی بروزی رنگ میں ہوگی نہ حقیقی رنگ میں اور وہ اقرار یہ ہے: (۱۰) اور اُس کے شاگردوں نے اُس سے پوچھا پھر فقیہ کیوں کہتے ہیں کہ پہلے الیاس کا آنا ضروری ہے ( یعنی مسیح کے آنے سے پہلے الیاس کا آنا کتابوں کے رو سے ضروری ہے) (۱۱) یسوع نے انہیں جواب دیا کہ الیاس البتہ پہلے آوے گا اور سب چیزوں کا بندو بست کرے گا (۱۲) پر میں تم سے کہتا ہوں کہ الیاس تو آپکا لیکن انہوں نے اس کو نہیں پہچانا بلکہ جو چاہا اس کے ساتھ کیا۔ اسی طرح 19 ابن آدم بھی اُن سے (آمد ثانی کے وقت میں دکھ اٹھائے گا۔ دیکھو انجیل متی بات ۱۷۔ آیت ۱۰ دا ۱ و۱۲ ۔ ان آیات میں مسیح نے صاف لفظوں میں فرما دیا کہ اس کا دوبارہ آنا بھی الیاس کے رنگ میں ہوگا۔ چونکہ مسیح اس سے پہلے کئی دفعہ اپنی آمد ثانی کا حواریوں کے سامنے ذکر کر چکا تھا جیسا کہ اسی انجیل متی سے ظاہر ہے۔ اس لئے اُس نے چاہا کہ الیاس کی آمد ثانی کی بحث میں اپنی آمد ثانی کی حقیقت بھی ظاہر کر دے سو اُس نے بتلا دیا کہ میری آمد ثانی بھی الیاس کی آمد ثانی کی مانند ہوگی یعنی محض بروزی طور پر ہوگی ۔ اب کس قدر ظلم ہے کہ مسیح تو اپنی آمد ثانی کو بروزی طور پر بتلاتا ہے اور صاف کہتا ہے کہ میں نہیں آؤں گا بلکہ میرے خلق اور خو پر کوئی اور آئے گا کیا تعجب ہے کہ سید احمد بریلوی اس مسیح موعود کے لئے الیاس کے رنگ میں آیا ہو ۔ کیونکہ اُس کے خون نے ایک ظالم سلطنت کا استیصال کر کے مسیح موعود کے لئے جو یہ راقم ہے راہ کو صاف کیا۔ اُسی کے خون کا اثر معلوم ہوتا ہے جس نے انگریزوں کو پنجاب میں بلایا اور اس قد رسخت مذہبی روکوں کو جو ایک آہنی تنور کی طرح تھیں دُور کر کے ایک آزا د سلطنت کے حوالہ پنجاب کو کر دیا اور تبلیغ اسلام کی بنیاد ڈال دی ۔ منہ