تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 263 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 263

۲۶۳ روحانی خزائن جلد ۷ کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تمام خدام حاضر ہیں اور فرض اشاعت پورا کرنے کے لئے بدل و جان سرگرم ہیں۔ آپ تشریف لائیے اور اس اپنے فرض کو پورا کیجئے کیونکہ آپ کا دعوی ہے کہ میں تمام کافہ ناس کیلئے آیا ہوں اور اب یہ وہ وقت ہے کہ آپ اُن تمام قوموں کو جو زمین پر رہتی ہیں قرآنی تبلیغ کر سکتے ہیں اور اشاعت کو کمال تک پہنچا سکتے ہیں اور اتمام حجت کے لئے تمام لوگوں میں دلائل حقانیت قرآن پھیلا سکتے ہیں تب آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے جواب دیا کہ دیکھو میں بروز کے طور پر آتا ہوئی مگر میں ملک ہند میں آؤں گا کیونکہ جوش مذاہب و اجتماع جميع ادیان اور مقابلہ جمیع ملل ونحل اور امن اور آزادی اسی جگہ ہے اور نیز آدم علیہ السلام اسی جگہ نازل ہوا تھا۔ پس ختم دور زمانہ کے وقت بھی وہ جو آدم کے رنگ میں آتا ہے اسی ملک میں اس کو آنا چاہیے تا آخر اور اول کا ایک ہی جگہ اجتماع ہو کر دائرہ پورا ہو جائے اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حسب آیت و آخرين منهم دوباره تشریف لا نا بجز صورت بروز غیر ممکن تھا اس لئے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے ایک ایسے شخص کو اپنے لئے منتخب کیا جو خلق اور خواور ہمت اور ہمدردی خلائق میں اس کے مشابہ تھا اور مجازی طور پر اپنا نام احمد اور محمد اس کو عطا کیا تا یہ سمجھا جائے کہ گویا اس کا ظہور بعینہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور تھا لیکن یہ امر کہ یہ دوسرا بعث کس زمانہ میں چاہیے تھا ؟ اس کا یہ جواب ہے کہ چونکہ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دوسرا فرض منصبی جو تکمیل اشاعت ہدایت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بوجہ عدم وسائل اشاعت غیر ممکن تھا اس لئے قرآن شریف کی آیت وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ثانی کا وعدہ دیا گیا ہے۔ اس وعدہ کی ضرورت اس وجہ سے پیدا ہوئی کہ تا دوسرا فرض منصبی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا یعنی تحمیل اشاعت ہدایت دین جو آپ کے ہاتھ سے پورا ہونا چاہیے تھا اُس وقت باعث عدم وسائل پورا نہیں ہوا سو اس فرض کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آمد ثانی سے جو بروزی رنگ میں تھی ایسے زمانہ میں پورا کیا جبکہ زمین کی تمام قوموں تک اسلام پہنچانے کیلئے وسائل پیدا ہو گئے تھے۔ منہ الجمعة :