تحفۂ گولڑویہ — Page 264
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۶۴ خدا تعالیٰ کے کاموں میں تناسب واقع ہے اور وضع شیء فی محلہ اس کی عادت ہے جیسا کہ اہم حکیم کے مفہوم کا مقتضا ہونا چاہیے اور نیز وہ بوجہ واحد ہونے کے وحدت کو پسند کرتا ہے اس لئے اُس نے یہی چاہا کہ جیسا کہ تکمیل ہدایت قرآن خلقت آدم کی طرح چھٹے دن کی گئی یعنی بروز جمعہ ایسا ہی تکمیل اشاعت کا زمانہ بھی وہی ہو جو چھٹے دن سے مشابہ ہو لہذا اُس نے اس بعث دوم کے لئے ہزار ششم کو پسند فرمایا اور وسائل اشاعت بھی اسی ہزار ششم میں وسیع کئے گئے اور ہر ایک اشاعت کی راہ کھولی گئی۔ ہر ایک ملک کی طرف سفر آسان کئے گئے جابجا مطبع جاری ہو گئے ۔ ڈاک خانہ جات کا احسن انتظام ہو گیا اکثر لوگ ایک دوسرے کی زبان سے بھی واقف ہو گئے اور یہ امور ہزار پنجم میں ہرگز نہ تھے بلکہ اس ساٹھ سال سے پہلے جو اس عاجز کی گذشتہ عمر کے دن ہیں ان تمام اشاعت کے وسیلوں سے ملک خالی پڑا ہوا تھا اور جو کچھ ان میں سے موجود تھا وہ نا تمام اور کم قد راور شاذونادر کے حکم میں تھا۔ یہ وہ ثبوت ہیں جو میرے مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے پر کھلے کھلے دلالت کرتے ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ ایک شخص بشر طیکہ متقی ہو جس وقت ان تمام دلائل میں غور (۱۰۲) کرے گا تو اس پر روز روشن کی طرح کھل جائے گا کہ میں خدا کی طرف سے ہوں ۔ انصاف سے دیکھو کہ میرے دعوے کے وقت کس قدر میری سچائی پر گواہ جمع ہیں (۱) زمین پر وہ مفاسد موجود ہیں جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کی قریباً بیخ کنی کر دی ہے اسلام کی اندرونی حالت منجملہ گواہوں کے ایک یہ بھی زبر دست گواہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے ثبوت ہر یک پہلو سے اس زمانہ میں پیدا ہو گئے ہیں یہاں تک کہ یہ ثبوت بھی نہایت قوی اور روشن دلائل سے مل گیا کہ آپ کی قبر سری نگر علاقہ کشمیر خان یار کے محلہ میں ہے۔ یادر ہے کہ ہمارے اور ہمارے مخالفوں کے صدق و کذب آزمانے کے لئے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات حیات ہے۔ اگر حضرت عیسی در حقیقت زندہ ہیں تو ہمارے سب دعوے جھوٹے اور سب دلائل پیچ ہیں اور اگر وہ در حقیقت قرآن کے رو سے فوت شدہ ہیں تو ہمارے مخالف باطل پر ہیں ۔ اب قرآن درمیان میں ہے اس کو سوچو۔ منہ