تحفۂ گولڑویہ — Page 230
۲۳۰ روحانی خزائن جلد۱۷ اور ہندو بھی علاوہ قومی اتفاق کے بڑی شوکت اور سلطنت اور جمعیت رکھتے تھے اور چینی بھی اپنی تمام طاقتوں میں بھرے ہوئے تھے تو پھر اس جگہ طبعا یہ سوال ہوتا ہے کہ یہ تمام قدیم مذاہب جن کی بہت پرانی اور زبردست سلطنتیں تھیں اور جن کی حالتیں قومی اتفاق اور دولت اور طاقت اور قدامت اور دوسرے اسباب کی رو سے بہت ترقی پر تھیں اُن کے شر سے بچنے کے لئے کیوں دعا نہیں سکھلائی ؟ اور عیسائی قوم جو اُس وقت نسبتی طور پر ایک کمزور قوم تھی کیوں اُن کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے دعا سکھلائی گئی ؟ اس سوال کا یہی جواب ہے جو بخوبی یاد رکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے علم میں یہ مقدر تھا کہ یہ قوم روز بروز ترقی کرتی جائے گی یہاں تک کہ تمام دنیا میں پھیل جائے گی اور اپنے مذہب میں داخل کرنے کے لئے ہر ایک تدبیر سے زور لگائیں گے اور کیا علمی سلسلہ کے رنگ میں اور کیا مالی ترغیبوں سے اور کیا اخلاق اور شیرینی کلام دکھلانے سے اور کیا دولت اور شوکت کی چمک سے اور کیا نفسانی شہوات اور اباحت اور بے قیدی کے ذرائع سے اور کیا نکتہ چینیوں اور اعتراضات کے ذریعہ سے اور کیا بیماروں اور ناداروں اور در ماندوں اور یتیموں کا متکفل بننے سے ناخنوں تک یہ کوشش کریں گے کہ کسی بد قسمت نادان یا لالچی یا شہوت پرست یا جاه طلب یا بیکس یا کسی بچہ بے پدر و مادر کو اپنے قبضہ میں لا کر اپنے مذہب میں داخل کریں سو اسلام کے لئے یہ ایک ایسا فتنہ تھا کہ کبھی اسلام کی آنکھ نے اس کی نظیر نہیں دیکھی اور اسلام کے لئے یہ ایک عظیم الشان ابتلا تھا جس سے لاکھوں انسانوں کے ہلاک ہو جانے کی امید تھی ۔ اس لئے خدا نے سورہ فاتحہ میں جس سے قرآن کا افتتاح ہوتا ہے اس مہلک فتنہ سے بچنے کے لئے دعا سکھلائی اور یادر ہے کہ قرآن شریف میں یہ ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے جس کی نظیر اور کوئی پیشگوئی نہیں کیونکہ اگر چه قرآن شریف میں اور بہت سی پیشگوئیاں ہیں جو اس ہمارے زمانہ میں پوری ہو گئی ہیں