تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 231 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 231

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۳۱ جیسے اجتماع کسوف قمروٹس کی پیشگوئی جو آیت جُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ سے معلوم ہوتی ہے۔ اور اونٹوں کے بیکار ہونے اور مکہ اور مدینہ میں ریل جاری ہونے کی پیشگوئی جو آیت وَإِذَا الْعِشَارُ عُظَلَتْ " سے صاف طور پر سمجھی جاتی ہے لیکن اس پیشگوئی کے مشہور کرنے اور ہمیشہ امت کے پیش نظر رکھنے میں سب سے زیادہ خدا تعالیٰ نے اہتمام فرمایا ہے کیونکہ اس سورۃ میں یعنی سورۃ فاتحہ میں بطور دعا اسے تعلیم فرمایا ہے جس کو پنچ وقت کروڑہا مسلمان اپنے فرائض ۴۸۴۶ اور نمازوں میں پڑھتے ہیں۔ اور ممکن نہیں کہ زیرک مسلمانوں کے دلوں میں اس جگہ یہ خیال نہ گذرے کہ جس حالت میں اس زمانہ کے عام مسلمانوں کے خیال کے موافق اس اُمت کے لئے دجال کا فتنہ سب فتنوں سے بڑھ کر ہے جس کی نظیر حضرت آدم سے دنیا کے اخیر تک کوئی نہیں تو خدا تعالیٰ نے ایسی عظیم الشان دعا میں جو بوجہ کثرت تکرار و دائگی مناجات اوقات متبرکه اکثر احتمال قبولیت کا رکھتی ہے اس بزرگ فتنہ کا ذکر کیوں چھوڑ دیا اس طرح پر سورہ فاتحہ میں دعا کیوں نہ سکھلائی کہ غیر المغضوب عليهم ولا الدجال ۔ اس کا جواب یہی ہے کہ دجال کوئی علیحدہ فرقہ نہیں ہے اور نہ کوئی ایسا شخص ہے کہ جو عیسائیوں اور مسلمانوں کو پامال کر کے دنیا کا مالک ہو جائے گا۔ ایسا خیال کرنا قرآن شریف کی تعلیم کے مخالف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔ وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ " یعنی اے عیسی خدا تیرے حقیقی تابعین کو جو مسلمان ہیں اور ادعائی تابعین کو جو عیسائی ہیں ادعائی طور پر قیامت تک ان لوگوں پر غالب رکھے گا جو تیرے دشمن اور منکر اور مکذب ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ ہمارے مخالف مولویوں کا دجال مفروض بھی حضرت عیسی علیہ السلام کا منکر ہوگا۔ پس اگر عیسائیوں اور مسلمانوں پر اُس کو غالب کیا گیا اور تمام زمین کی عنان سلطنت اور حکومت اُس کے ہاتھ میں دی گئی تو اس سے قرآن شریف کی تکذیب لازم آتی ہے اور نہ صرف ایک پہلو سے بلکہ نعوذ باللہ دو پہلو سے خدا تعالیٰ کا کلام جھوٹا ٹھہرتا ہے القيامة : ١٠ التكوير : ۵ ال عمران : ۵۶