تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 229 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 229

روحانی خزائن جلد۱۷ ۲۲۹ اس سورۃ میں بالیقین وہ لوگ ہیں جو مسیح موعود سے انکار کرنے والے اور اس کی تکفیر اور تکذیب اور توہین کرنے والے ہیں تو بلاشبہ اُن کے مقابل پر منعم علیھم سے وہی لوگ اس جگہ مراد ر کھے گئے ہیں جو صدق دل سے مسیح موعود پر ایمان لانے والے اور اُس کی دل سے تعظیم کرنے والے اور اس کے انصار ہیں اور دنیا کے سامنے اس کی گواہی دیتے ہیں۔ رہے ضالین ۔ پس جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت اور تمام اکا بر اسلام کی شہادت سے ضالین سے مراد عیسائی ہیں اور ضالین سے پناہ مانگنے کی دعا بھی ایک پیشگوئی کے رنگ میں ہے کیونکہ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عیسائیوں کا کچھ بھی زور نہ تھا بلکہ فارسیوں کی سلطنت بڑی قوت اور شوکت میں تھی۔ اور مذاہب میں سے تعداد کے لحاظ سے بدھ مذہب دنیا میں (۸۳) تمام مذاہب سے زیادہ بڑھا ہوا تھا اور مجوسیوں کا مذہب بھی بہت زور وجوش میں تھا حمد بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس سے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سورہ فاتحہ میں المغضوب علیھم سے مراد یہود اور الضالین سے مراد نصاری ہیں۔ دیکھو کتاب در منتور صفحه نمبر ۱۹ اور عبدالرزاق اور احمد نے اپنی مسند میں اور عبد بن حمید اور ابن جریر اور بغوی نے معجم الصحابہ میں اور ابن منذر اور ابوالشیخ نے عبداللہ بن تحقیق سے روایت کی ہے ۔ قال اخبرني من سمع النبي صلى الله عليه وسلم وهو بوادي القرى على فرس له و سأله رجل من بنى العين فقال من المغضوب عليهم يا رسول الله۔ قال اليهود۔ قال فمن الضالون۔ قال النصاری ۔ یعنی کہا کہ مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا جبکہ آپ وادی قرمی میں گھوڑے پر سوار تھے کہ بنی تین میں سے ایک شخص نے آنحضرت سے سوال کیا کہ سور و فاتحہ میں مغضوب علیہم سے کون مراد ہے فرمایا کہ یہود۔ پھر سوال کیا کہ ضالین سے کون مراد ہے فرمایا کہ نصاری در منثور صفحہ نمبر۱۷۔ منہ