تحفۂ گولڑویہ — Page 218
روحانی خزائن جلد۱۷ ۲۱۸ اس جماعت میں داخل رکھے جو مسیح موعود کی جماعت ہے جن کی نسبت قرآن شریف فرماتا ہے وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ل ۔ غرض اسلام میں یہی دو جماعتیں منعم میھم کی جماعتیں ہیں اور انہیں کی طرف اشارہ ہے آیت صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں کیونکہ تمام قرآن پڑھ کر دیکھو جماعتیں دوہی ہیں۔ ایک صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت ۔ دوسری و اخرین منھم کی جماعت جو صحابہ کے رنگ میں ہے اور وہ مسیح موعود کی جماعت ہے۔ پس جب تم نماز میں یا خارج نماز کے یہ دعا پڑھو کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم لے تو دل میں یہی ملحوظ رکھو کہ میں صحابہ اور مسیح موعود کی جماعت کی راہ طلب کرتا ہوں یہ تو سورۃ فاتحہ کی پہلی دعا ہے (۲) دوسری دعا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ہے جس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسیح موعود کو ڈکھ دیں گے اور اس دُعا کے مقابل پر قرآن شریف کے اخیر میں سورۃ تبت يَدَا أَبِي لَهَبٍ ہے (۳) تیسری دعا وَلَا الضَّالِّينَ ہے اور اس کے مقابل پر قرآن شریف کے اخیر میں سورہ اخلاص ہے یعنی قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدُ اللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ | كُفُوًا أَحَدٌ اور اس کے بعد دو اور سورتیں جو ہیں یعنی سورۃ الفلق اور سورۃ الناس یہ دونوں سورتیں سورۃ ثبت اور سورۃ اخلاص کے لئے بطور شرح کے ہیں اور ان دونوں سورتوں میں اس تاریک زمانہ سے خدا کی پناہ مانگی گئی ہے جب کہ لوگ خدا کے مسیح کو دکھ دیں گے اور جبکہ عیسائیت کی ضلالت تمام دنیا میں پھیلے گی۔ پس سورہ فاتحہ میں اُن تینوں دعاؤں کی تعلیم بطور براعت الاستبلال ہے یعنی وہ اہم مقصد جو قرآن میں مفصل بیان کیا گیا ہے سورہ فاتحہ میں بطور اجمال اس کا افتتاح کیا ہے اور پھر سورہ تبت اور سورہ اخلاص اور سورہ فلق اور سورہ الناس میں ختم قرآن کے وقت میں انہی دونوں بلاؤں سے خدا تعالی کی پناہ مانگی گئی ہے پس افتتاح کتاب اللہ بھی انہی دونوں دعاؤں سے ہوا اور پھر اختتام کتاب اللہ بھی انہی دونوں دعاؤں پر کیا گیا۔ الجمعة : الفاتحة : ٧،٦ الاخلاص : ۲ تا ۵