تحفۂ گولڑویہ — Page 217
روحانی خزائن جلد۱۷ ۲۱۷ یہ معنے اجتہادی نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہو کر یقینی اور قطعی ہیں اور اس الہامی پیشگوئی کے وثوق پر مبنی ہیں جس نے بکمال صفائی اپنی سچائی ظاہر کر دی ہے۔ غرض آیت تَبَّتْ يَدَا اني لَهَبٍ وَتَبَّ لے جو قرآن شریف کے آخری سپارہ میں چار آخری سورتوں میں سے پہلی سورۃ ہے جس طرح آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے موذی دشمنوں پر دلالت کرتی ہے ایسا ہی بطور اشارة النص اسلام کے مسیح موعود کے ایذا دہندہ دشمنوں پر اس کی دلالت ہے اور اس کی مثال یہ ہے کہ مثلاً آیت هُوَ الَّذِی اَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدين كله " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں ہے اور پھر یہی آیت مسیح موعود کے حق میں بھی ہے جیسا کہ تمام مفسر اس کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ پس یہ بات کوئی غیر معمولی امر نہیں ہے کہ ایک آیت کا مصداق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور پھر مسیح موعود بھی اسی آیت کا مصداق ہو بلکہ قرآن شریف جو ذ والوجوہ ہے اُس کا محاورہ اسی طرز پر واقع ہو گیا ہے کہ ایک آیت میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم مراد اور مصداق ہوتے ہیں اور اسی آیت کا مصداق مسیح موعود بھی ہوتا ہے جیسا کہ آیت هُوَ الَّذِی اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدى سے ظاہر ہے ۔ اور رسول سے مراد اس جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں اور مسیح بھی مراد ہے ۔ خلاصہ کلام یہ کہ آیت تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ جو قرآن شریف کے آخر میں ہے آیت مغضوب علیہم کی ایک شرح ہے جو قرآن شریف کے اول میں ہے کیونکہ قرآن شریف کے بعض حصے بعض کی تشریح ہیں ، پھر اُس کے بعد جو سورۃ فاتحہ میں ولا الضالين ہے اس کے مقابل پر اور اس کی تشریح میں سورہ تبت کے بعد سورۃ اخلاص ہے ۔ میں بیان کر چکا ہوں کہ سورۃ فاتحہ میں تین دعائیں سکھلائی گئی ہیں (۱) ایک یہ دعا کہ خدا تعالیٰ اُس جماعت میں داخل رکھے جو صحابہ کی جماعت ہے اور پھر اس کے بعد ل اللهب : - الصف: ١٠