تحفۂ گولڑویہ — Page 219
۲۱۹ روحانی خزائن جلد۱۷ اور یادر ہے کہ ان دونوں فتنوں کا قرآن شریف میں مفصل بیان ہے اور سورہ فاتحہ اور آخری سورتوں میں اجمالاً ذکر ہے۔ مثلاً سورہ فاتحہ میں دعا ولا الضالین میں صرف دو لفظ میں سمجھایا ےے کے گیا ہے کہ عیسائیت کے فتنہ سے بچنے کے لئے دعا مانگتے رہو جس سے سمجھا جاتا ہے کہ کوئی فتنہ عظیم الشان در پیش ہے جس کے لئے یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ نماز کے پنج وقت میں یہ دعا شامل کر دی گئی اور یہاں تک تاکید کی گئی کہ اس کے بغیر نماز ہو نہیں سکتی جیسا کہ حدیث لا صلوة الا بالفاتحة سے ظاہر ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ دنیا میں ہزار ہا مذ ہب پھیلے ہوئے ہیں جیسا کہ پارسی یعنی مجوسی اور براہمہ یعنی ہندو مذہب اور بدھ مذہب جو ایک بڑے حصہ دنیا پر قبضہ رکھتا ہے اور چینی مذہب جس میں کروڑ ہا لوگ داخل ہیں اور ایسا ہی تمام بت پرست جو تعداد میں سب مذہبوں سے زیادہ ہیں اور یہ تمام مذہب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بڑے زور و جوش سے پھیلے ہوئے تھے اور عیسائی مذہب ان کے نزدیک ایسا تھا جیسا کہ ایک پہاڑ کے مقابل پر ایک تنکا ۔ پھر کیا وجہ کہ سورۃ فاتحہ میں یہ دعا نہیں سکھلائی کہ مثلاً خدا چینی مذہب کی ضلالتوں سے پناہ میں رکھے یا مجوسیوں کی ضلالتوں سے پناہ میں رکھے یا بدھ مذہب کی ضلالتوں سے پناہ میں رکھے یا آریہ مذہب کی ضلالتوں سے پناہ میں رکھے یا دوسرے بت پرستوں کی ضلالتوں سے پناہ میں رکھے بلکہ یہ فرمایا گیا کہ تم دعا کرتے رہو کہ عیسائی مذہب کی ضلالتوں سے محفوظ رہو ۔ اس میں کیا بھید ہے ؟ اور عیسائی مذہب میں کون سا عظیم الشان فتنہ آئندہ کسی زمانہ میں پیدا ہونے والا تھا جس سے بچنے کے لئے زمین کے تمام مسلمانوں کو تاکید کی گئی ۔ پس سمجھو اور یا درکھو کہ یہ دعا خدا کے اُس حمد اس جگہ ان لوگوں پر سخت افسوس آتا ہے جو کہتے ہیں کہ ہم اہل حدیث ہیں اور سورہ فاتحہ پر ہمیشہ زور دیتے ہیں کہ اس کے بغیر نماز پوری نہیں ہوتی حالانکہ سورہ فاتحہ کا مغز مسیح موعود کی تابعداری ہے جیسا کہ متن میں ثابت کیا گیا ہے۔ منہ