تحفۂ گولڑویہ — Page 209
۲۰۹ روحانی خزائن جلد۱۷ کہ قریب ہوگا کہ راستبازوں کو بھی گمراہ کریں لہذا اِس دعا کو بھی پہلی دعا کے ساتھ بھی مشابہت ہے۔ ایک تو یہی مشابہت جو ندرت فی الخلقت میں ہے۔ دوسری مشابہت اس بات میں کہ وہ اسرائیلی خلیفوں میں سے آخری خلیفہ ہیں مگر اسرائیل کے خاندان میں سے نہیں حالانکہ زبور میں وعدہ تھا کہ تمام خلیفے اس سلسلہ کے اسرائیلی خاندان میں سے ہوں گے پس گویا ماں کا اسرائیلی ہونا اس وعدہ کے ملحوظ رکھنے کے لئے کافی سمجھا گیا ایسا ہی میں بھی محمد ی سلسلہ کے خلیفوں میں سے آخری خلیفہ ہوں مگر باپ کے رو سے قریش میں سے نہیں ہوں گو بعض دادیاں سادات میں ہونے کی وجہ سے قریش میں سے ہوں۔ تیسر کی مشابہت حضرت عیسی علیہ السلام سے میری یہ ہے کہ وہ ظاہر نہیں ہوئے جب تک حضرت موسیٰ کی وفات پر چودھویں صدی کا ظہور نہیں ہوا ایسا ہی میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے چودھویں صدی کے سر پر مبعوث ہوا ہوں ۔ چونکہ خدا تعالیٰ کو یہ پسند آیا ہے کہ روحانی قانون قدرت کو ظاہری قانون قدرت سے مطابق کر کے دکھلائے اس لئے اُس نے مجھے چودھویں صدی کے سر پر پیدا کیا کیونکہ سلسلۂ خلافت سے اصل مقصود یہ تھا کہ یہ سلسلہ ترقی کرتا کرتا کمال نام کے نقطہ پر ختم ہو یعنی اسی نقطہ پر جہاں اسلامی معارف اور اسلامی انوار اور اسلامی دلائل اور حجج پورے طور پر جلوہ گر ہوں اور چونکہ چاند چودھویں رات میں اپنے نور میں کمال تک پہنچا ہوا ہوتا ہے۔ سوسیح موعود کو چودھویں صدی کے سر پر پیدا کرنا اس ۷۲ طرف اشارہ تھا کہ اس کے وقت میں اسلامی معارف اور برکات کمال تک پہنچ جائیں گی۔ جیسا کہ آیت لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّم میں ای کمال تام کی طرف اشارہ ہے۔ اور نیز چونکہ چاند اپنے کمال تام کی رات میں یعنی چودھویں رات میں مشرق کی طرف سے ہی طلوع کرتا ہے۔ اس لئے یہ مناسبت بھی جو خدا کے ظاہری اور روحانی قانون میں ہونی چاہیے یہی چاہتی تھی جو مسیح موعود جو اسلام کے کمال تام کو ظاہر کرنے والا ہے ممالک مشرقیہ میں سے ہی پیدا ہو الصف ١٠