تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 165

۱۶۵ روحانی خزائن جلد ۱۷ اُن ملکوں کی طرف چلے گئے جن میں دوسرے یہودی رہتے تھے جیسے کشمیر جس میں یہودی آکر بخت النصر کے تفرقہ کے وقت آباد ہو گئے تھے اور معراج کی رات میں وفات یافتہ نبیوں کی روحوں میں اُن کی رُوح دیکھی گئی۔ یہ تو قرآنی پیشگوئی ہے جو حضرت مسیح کی وفات بیان فرما رہی ہے جس کے ساتھ ایک لشکر دلائل کا ہے اور علاوہ ادلہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے نسخہ مرہم عیسی اور قبر سری نگر جس میں حضرت عیسی علیہ السلام مدفون ہیں اس پر شاہد ہیں۔ اور اس کے مقابل پر وہی مسلم کی ظنی حدیث پیش کی جاتی ہے جس پر صد ہا شبہات چیونٹیوں کی طرح چھٹے ہوئے ہیں اور جو ظاہری الفاظ کے رو سے صریح قرآن شریف کے متناقض اور اُس کی ضد پڑی ہوئی ہے اور طرفہ تر یہ کہ مسلم میں کوئی آسمان کا لفظ موجود نہیں مگر پھر بھی خواہ نخواہ اس حدیث کے یہی معنے کئے جاتے ہیں کہ آسمان سے حضرت عیسی علیہ السلام اُتریں گے۔ حالانکہ قرآن بضرب دبل فرما رہا ہے کہ عیسی بن مریم رسول اللہ زمین میں دفن کیا گیا ہے آسمان پر ان کے جسم کا نام و نشان نہیں۔ اب بتلاؤ کہ ہم ان دونوں متناقض پیشگوئیوں میں ۴۷ سے کس کو قبول کریں کیا مسلم کی روایت کے لئے قرآن کو چھوڑ دیں اور ایک ذخیرہ دلائل کو مسلم کی حدیث کا یہ لفظ کہ مسیح دمشق کے شرقی منارہ کی طرف اُترے گا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ وہ مسیح موعود کا سکونت گاہ ہوگا بلکہ غایت درجہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی وقت اس کی کارروائی دمشق تک پہنچے گی اور یہ بھی اس صورت میں کہ دمشق کے لفظ سے حقیقت میں دمشق ہی مراد ہو اور اگر ایسا سمجھا بھی جائے تو اس میں کیا حرج ہے؟ اب تو دمشق سے مکہ معظمہ تک ریل بھی تیار ہو رہی ہے اور ہر ایک انسان میں دن تک دمشق میں پہنچ سکتا ہے۔ اور عربی میں نزیل مسافر کو کہتے ہیں لیکن یہ فیصلہ شدہ امر ہے کہ اس حدیث کے یہی معنے ہیں کہ مسیح موعود آنے والا دمشق کے شرقی طرف ظاہر ہوگا اور قادیاں دمشق سے شرقی طرف ہے۔ حدیث کا منشاء یہ ہے کہ جیسے دجال مشرق میں ظاہر ہو گا ایسا ہی مسیح موعود بھی مشرق میں ہی ظاہر ہو گا۔ منہ