تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 166 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 166

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۱۶۶ اپنے ہاتھ سے پھینک دیں کیا کریں۔ یہ بھی ہمارا مسلم پر احسان ہے کہ ہم نے تاویل سے کام لے کر حدیث کو مان لیا ورنہ رفع تناقض کے لئے ہمارا حق تو یہ تھا کہ اس حدیث کو موضوع ٹھہراتے لیکن خوب غور سے سوچنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ دراصل حدیث موضوع نہیں ہے ہاں استعارات سے پُر ہے اور پیشگوئی میں جہاں کوئی امتحان منظور ہوتا ہے استعارات ہوا کرتے ہیں ہر ایک پیشگوئی کے ظاہر لفظ کے موافق معنے کرنا شرط نہیں اس کی حدیثوں اور کتاب اللہ میں صدہا نظیریں ہیں یوسف علیہ السلام کے خواب کی پیشگوئی دیکھو کب وہ ظاہری طور پر پوری ہوئی اور کب سورج اور چاند اور ستاروں نے اُن کو سجدہ کیا اور دمشق کے شرقی منارہ سے ضروری نہیں کہ وہ حصہ شرقی منارہ دمشق کا جز ہو چنانچہ اس بات کو تو تمام علماء مانتے آئے ہیں اور یادر ہے کہ قادیان ٹھیک ٹھیک دمشق سے شرقی طرف واقع ہے اور دمشق کے ذکر کی وجہ ہم بیان کر چکے ہیں۔ ایک اور نکتہ یا در رکھنے کے لائق ہے یعنی یہ کہ جو مسلم کی حدیث میں یہ لفظ ہیں کہ مسیح موعود دمشق کے منارہ شرقی کے قریب نازل ہوگا اس لفظ کی تشریح ایک دوسری مسلم کی حدیث سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ اس شرقی طرف سے مراد کوئی حصہ دمشق کا نہیں ہے۔ حدیث یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا پتہ دینے کے لئے مشرق کی طرف اشارہ کیا تھا لفظ حدیث کے یہ ہیں کہ اَوْماً الى المشرق ۔ پس اس سے قطعی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ دمشق کسی صورت سے مسیح کے ظہور کی جگہ نہیں کیونکہ وہ مکہ اور مدینہ سے مشرق کی طرف نہیں ہے بلکہ شمال کی طرف ہے اور مسیح کے ظہور کی جگہ وہی مشرق ہے جو دجال کے ظہور کی جگہ حسب منشاء حدیث اوماً الى المشرق ہے یعنی حدیث سے ثابت ہے کہ دجال کا ظہور مشرق سے ہوگا اور نواب مولوی صدیق حسن خاں صاحب حجج الكرامه میں منظور کر چکے ہیں کہ فتنہ دجالیہ کے لئے جو مشرق مقرر کیا گیا ہے وہ ہندوستان ہے