تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 164

۱۶۴ روحانی خزائن جلد ۱۷ ذرہ سوچ لو اور قرآن نے توفی اور رفع کے لفظ کو کئی جگہ ایک ہی معنوں موت اور رفع روحانی سے محل پر ذکر کر کے صاف سمجھا دیا ہے کہ توفی کے معنے مارنا اور رفع الی اللہ کے معنے رُوح کو خدا کی طرف اٹھانا ہے اور پھر توفی کے لفظ کے معنے حدیث کے رُو سے بھی خوب صاف ہو گئے ہیں کیونکہ بخاری میں ابن عباس سے روایت ہے کہ متوفیک ممیتک یعنی حضرت | ابن عباس رضی اللہ عنہ نے لفظ متوفیک کے یہی معنے گئے ہیں کہ میں تجھے مارنے والا ہوں۔ اور اس بات پر صحابہ کا اجماع بھی ہو چکا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے اور گذشتہ روحوں میں جاملے۔ اب بتلاؤ اور خود ہی انصاف کرو کہ دو پیشگوئیاں متناقض ایک ہی مضمون میں جھگڑا کر رہی ہیں۔ ایک قرآنی پیشگوئی ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے موت کا وعدہ ہونا اور پھر بموجب آیت فلما تو فیتنی کے اس وعدہ موت کا پورا ہو جانا صاف طور پر اس پیشگوئی سے معلوم ہو رہا ہے اور سارا قرآن اس پیشگوئی کے معنے یہی کر رہا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے اور اُن کی روح خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائی گئی اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تمام صحابہ کے اتفاق کے ساتھ جو لاکھ سے بھی کچھ زیادہ تھے اس بات پر اجماع ظاہر کر رہے ہیں کہ در حقیقت حضرت عیسی فوت ہو گئے اور امام مالک بھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ حضرت عیسی ضرور مر گئے اور امام اعظم اور امام احمد اور امام شافعی ان کے قول کوسن کر اور خاموشی اختیار کر کے اسی قول کی تصدیق کر رہے ہیں اور امام ابن حزم بھی حضرت عیسی کی موت کی گواہی دے رہے ہیں اور مسلمانوں میں سے فرقہ معتزلہ بھی ان کی موت کا قائل اور ایک صوفیوں کا فرقہ اسی بات کا قائل کہ مسیح فوت ہو گیا ہے اور آنے والا مسیح موعود اسی اُمت میں سے ہوگا اور ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی جو حجج الکرامہ میں بھی لکھی گئی ہے حضرت عیسی کی عمر ایک سو بیس برس متعین کر رہی ہے اور کنز العمال کی ایک حدیث فتنہ صلیب کے بعد کے زمانہ کی نسبت بیان کر رہی ہے کہ حضرت مسیح آسمان پر نہیں گئے بلکہ خدا تعالیٰ سے حکم پا کر اپنے وطن سے بر طبق سنت جمیع انبیاء علیہم السلام ہجرت کر گئے اور