تحفۂ گولڑویہ — Page 163
روحانی خزائن جلد ۱۷ اس جگہ دو پیشگوئیاں متناقض ہیں یعنی ایک پیشگوئی دوسرے کی ضد واقع ہے اس طرح پر کہ مسیح موعود کے نزول کی پیشگوئی جو صحیح مسلم میں موجود ہے اس کے یہ معنے محض اپنی طرف سے ہمارے مخالف کر رہے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر بیٹھا ہوا ہے ابھی تک فوت نہیں ہوا اور آخری زمانہ میں دمشقی منارہ کی شرقی طرف اُترے گا اور ایسے ایسے کام کرے گا غرض یہ پیشگوئی تو صحیح مسلم کی کتاب میں سے ہے جو بگاڑ کر بیان کی جاتی ہے اور اس کے مقابل پر اور اس کی ضد ایک پیشگوئی قرآن شریف میں موجود ہے جو پہلی صدی میں ہی کروڑ ہا مسلمانوں میں شہرت پا چکی تھی اور یہ شہرت قرآنی پیشگوئی کی مسلم والی پیشگوئی کے وجود سے پہلے تھی یعنی اس زمانہ سے پہلے جبکہ مسلم نے کسی راوی سے سُن کر اس مخالفانہ پیشگوئی کو قریباً پونے دو سو برس بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی کتاب میں لکھا تھا اور مسلم کی پیشگوئی میں صرف یہی نقص نہیں کہ وہ قریباً پونے دوسو برس بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کی گئی بلکہ ایک یہ بھی نقص ہے کہ مسلم نے اُس اصل را وی کو بھی نہیں دیکھا جس نے یہ حدیث بیان کی تھی اور نہ اس شخص کو دیکھا جس کے پاس یہ روایت بیان کی بلکہ بہت سی زبانوں میں گھومتی ہوئی اور ایسے لوگوں کو چھوتی ہوئی جن کو ہم معصوم نہیں کہہ سکتے مسلم تک پہنچی اور ہمارے پاس کوئی دلیل اس بات پر نہیں کہ کیوں ایسی پیشگوئی کی نسبت جو غیر معصوم زبانوں سے کئی وسائط سے سنی گئی یہ حکم جاری کریں کہ وہ قرآن کی پیشگوئی کے درجہ پر ہے ۔ غرض ایسی پیشگوئی جس کا سارا تانا بانا ہی ظنی ہے جب قرآن کی پیشگوئی کے نقیض اور ضد ہو تو اس کو اس کے ظاہر الفاظ کے رو سے ماننا گویا قرآن شریف سے دست بردار ہونا (۴۶) ہے۔ ہاں اگر کسی تاویل سے مطابق آجائے اور تناقض جاتا رہے تو پھر بسر وچشم منظور ۔ یاد رہے کہ کوئی فولادی قلعہ بھی ایسا پختہ نہیں ہو سکتا جیسا کہ قرآن شریف میں حضرت مسیح کی موت کی آیت ہے پھر آسمان سے زندہ مع جسم اترنے کی پیشگوئی کس قدرموت کی پیشگوئی کی نقیض ہے