تحفۂ گولڑویہ — Page 162
روحانی خزائن جلدے کسی ۱۶۲ کی طرف پھیر لیتا ہے تو اس طرح پر تو مخالف کا بھی حق ہے کہ وہ بھی تاویل سے کام لے تو پھر فیصلہ قیامت تک غیر ممکن ۔ یہ اعتراض ہے جو ہمارے مخالف کرتے ہیں اور نیز اپنے ۴۵ نادان چیلوں کو سکھاتے ہیں مگر انہیں معلوم نہیں کہ وہ خود اس اعتراض کے نیچے ہیں ۔ ہم تو حدیث کے ظاہر الفاظ کو نہیں چھوڑتے جب تک قرآن اپنے نصوص صریحہ سے مع دوسری حدیثوں کے اس کو نہ چھڑائے اور تاویل کے لئے مجبور نہ کرے۔ چنانچہ اس جگہ بھی ایسا ہی ہے۔ اگر یہ لوگ خدا تعالیٰ سے خوف کر کے کچھ سوچتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ در حقیقت یہ اعتراض تو انہی پر ہوتا ہے کیونکہ قرآن شریف میں حضرت مسیح کے بارے میں صاف لفظوں میں یہ پیشگوئی موجود تھی کہ یعنی اِنّى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى یعنی اے عیسی میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور وفات کے بعد اپنی طرف اُٹھانے والا لیکن ہمارے مخالفوں نے اس نص کے ظاہر الفاظ پر عمل نہیں کیا اور نہایت مکر وہ اور پُر تکلف تاویل سے کام لیا یعنی رافعک کے فقرہ کو متوفیک کے فقرہ پر مقدم کیا اور ایک صریح تحریف کو اختیار کر لیا اور یا بعض نے توفی کے لفظ کے معنے بھر لینا کیا جو نہ قرآن سے نہ حدیث سے نہ علم لغت سے ثابت ہوتا ہے اور جسم کے ساتھ اٹھائے جانا اپنی طرف سے ملا لیا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے متوفیک کے معنے صریح ممیتک بخاری میں موجود ہیں۔ اُن سے منہ پھیر لیا اور علم نحو میں صریح یہ قاعدہ مانا گیا ہے کہ توفی کے لفظ میں جہاں خدا فاعل اور انسان مفعول به ہو ہمیشہ اُس جگہ توکی کے معنے مارنے اور رُوح قبض کرنے کے آتے ہیں ۔ مگر ان لوگوں نے اس قاعدہ کی کچھ بھی پروانہیں رکھی اور خدا کی تمام کتابوں میں کسی جگہ رفع الی اللہ کے معنے یہ نہیں کئے گئے کہ کوئی جسم کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف اُٹھایا جائے لیکن ان لوگوں نے زبر دستی سے بغیر وجود کسی نظیر کے رفع الی اللہ کے اس جگہ یہ معنے کئے کہ جسم کے ساتھ اٹھایا گیا۔ ایسا ہی توفی کے اُلٹے معنے کرنے کے وقت کوئی نظیر پیش نہ کی اور بھر لینا معنے لے لئے۔ اب بتلاؤ کہ کس نے نصوص کے ظاہر پر عمل کرنا چھوڑ دیا ؟ یا یوں سمجھ لو کہ ال عمران : ۵۶