تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 161 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 161

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۱۶۱ تحفہ گولڑویہ اور چوں نہیں کریں گے اور بخاری اور مسلم اور ابن ماجہ اور ابو داؤد اور نسائی اور مؤطا غرض تمام ذخیرہ حدیثوں کو جس طرح پر حضرات موحدین مانتے ہیں سر جھکا کر سب کو مان لیں گے اور اگر کوئی عرض کرے گا کہ حضرت آپ تو حکم ہو کر آئے ہیں کچھ تو ان علماء سے اختلاف کیجیئے تو نہایت عاجزی اور مسکینی سے کہیں گے کہ حکم کیسے۔ ہماری کیا مجال کہ ہم صحاح ستہ کی کچھ مخالفت کریں یا حضرت مولانا شیخ الکل نذیرحسین اور حضرت مولانا مولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی اور یا حضرت مولانا امام المقلدین رشید احمد گنگوہی کے اجتہادات اور اُن کے اکابر کی تشریحات کی مخالفت کریں۔ یہ حضرات جو کچھ فرما چکے سب ٹھیک اور بجا ہے ہم کیا اور ہمارا وجود کیا۔ ظاہر ہے کہ جبکہ مہدی اس طرح پر تسلیم محض ہو کر آئیں گے تو کوئی وجہ نہیں کہ علماء اُن کو کافر کہیں یا اُن کا نام دجال رکھیں ۔ اکثر یہ لوگ جو مولوی کہلاتے ہیں عوام کا لانعام کے آگے محض دھوکا دہی کے طور پر یہ بیان کیا کرتے ہیں کہ دیکھو مسلم میں یہ کیسی واضح حدیث ہے کہ مسیح موعود دمشق کے شرقی منارہ کے نزدیک آسمان پر سے اُترے گا اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھے گا اور اس پیشگوئی کے ظاہر الفاظ میں دمشق اور اس کے شرقی طرف ایک منارہ کا بیان ہے جس کے نزدیک مسیح موعود کا آسمان سے اترنا ضروری ہے۔ پس اگر ان تمام الفاظ کی تاویل کی جائے گی تو پھر پیشگوئی تو کچھ بھی نہ رہے گی بلکہ مخالف کے نزدیک ایک باعث تمسخر ہوگا کیونکہ پیشگوئی کی تمام شوکت اور اس کا اثر اپنے ظاہر الفاظ کے ساتھ ہوتا ہے اور پیشگوئی کرنے والے کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ لوگ ان علامتوں کو یا درکھیں اور اُنہی کو مدعی صادق کا معیار ٹھہرائیں مگر تاویل میں تو وہ سارے نشان مقرر کردہ گم ہو جاتے ہیں اور یہ امر مقبول اور مسلم ہے کہ نصوص کو ہمیشہ اُن کے ظاہر پر حمل کرنا چاہئے اور ہر ایک لفظ کی تاویل مخالف کو تسکین نہیں دے سکتی کیونکہ اس طرح تو کوئی مقدمہ فیصلہ ہی نہیں ہو سکتا بلکہ اگر ایک شخص تاویل کے طور پر اپنے مطلب کے موافق کسی حدیث کے معنے کر لیتا ہے اور الفاظ کے معنے کو تاویل کے طور پر اپنے مطلب