تحفۂ گولڑویہ — Page 160
روحانی خزائن جلد ۱۷ 17۔ سانپوں کو نہ ماریں اور نہ سانپ لوگوں کو ڈسیں ۔ پس اگر کسی مہدویت کے مدعی کے وقت یہ سب باتیں ہوں تب اس کو سچا مہدی مانا جائے ورنہ نہیں تو اب بتلاؤ کہ ان علامتوں اور نشانوں کے ساتھ جو لوگ بچے مہدی اور بچے مسیح کو پرکھنا چاہتے ہیں وہ مجھ کو کیونکر قبول کر لیں ۔ لیکن اس جگہ تعجب یہ ہے کہ آثار میں لکھا ہے کہ وہ مسیح موعود جوان کے زعم میں آسمان پر سے اُترے گا اور وہ مہدی جس کے لئے آسمان پر سے آواز آئے گی اُس کو بھی میری طرح کافر اور دقبال کہا جائے گا۔ اب اس جگہ طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ مسیح حدیثوں کے مطابق آسمان سے اترے گا اور اس مہدی کے لئے سچ مچ آسمان سے آواز آئے گی جو یہ خلیفہ اللہ ہے تو اتنے بڑے معجزات دیکھنے کے بعد یہاں تک کہ آسمانی فرشتے اتر تے دیکھ کر پھر کیا وجہ کہ اُن کو کافر ٹھہرائیں گے۔ بالخصوص جبکہ وہ آسمان سے اتر کر ان لوگوں کی تمام حدیثیں قبول کر لیں گے تو پھر تو کوئی وجہ تکفیر کی نہیں معلوم ہوتی۔ اس سے ضروری طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ میری نسبت بہت زیادہ ان لوگوں کی حدیثوں کا انکار کریں گے ورنہ کیا وجہ کہ باوجود اتنے معجزات دیکھنے کے پھر بھی اُن کو کا فرکہا جائے گا پس ماننا پڑا کہ بچے مسیح اور مہدی کی نشانی ہی یہی ہے کہ وہ ان لوگوں کی بہت سی حدیثوں سے منکر ہو۔ ورنہ یوں تو علماء کا سر پھرا ہوا نہ ہوگا کہ بے وجہ کا فر کہہ دیں گے اور ان کی نسبت کفر کا فتویٰ دیں گے۔ اب اس سوال کا جواب دینا ان مولوی صاحبوں کا حق ہے کہ جبکہ مہدی اور مسیح اُن کے قرار دادہ نشانوں کے موافق آئیں گے یعنی ایک تو دیکھتے دیکھتے آسمان سے مع فرشتوں کے اُترے گا اور دوسرے کے لئے آسمان سے آواز آئے گی کہ یہ خلیفہ اللہ مہدی ہے اور ایک دم میں مشرق مغرب میں وہ آواز پھر جائے گی گویا دونوں آسمان ہی سے اُترے تو پھر اس قدر بڑا معجزہ دیکھنے کے بعد جو گویا سیدنا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ظہور میں نہیں آیا کیوں ان دونوں معجز نما بزرگوں کو کافر کہیں گے۔ حالانکہ وہ آتے ہی علماء کرام کے سامنے اطاعت کے ساتھ جھک جائیں گے