تحفۂ گولڑویہ — Page 159
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۱۵۹ فاصلہ تین سو ہاتھ کے قریب ہو اور دجال کی پیشانی پر کا فرلکھا ہوا ہو۔ اور مہدی ایسا چاہئیے جس کی تصدیق کے لئے آسمان سے زور زور سے آواز آوے کہ یہ خلیفہ اللہ مہدی ہے اور وہ آواز تمام مشرق و مغرب تک پہنچ جائے اور مکہ سے اس کے لئے ایک خزانہ نکلے اور وہ عیسائیوں سے لڑے اور عیسائی بادشاہ اُس کے پاس پکڑے آویں اور تمام زمین کو کفار کے خون سے پُر کر دیوے اور اُن کی تمام دولت لوٹ لے اور اس قدر قاتل اور خونریز ہو کہ جب سے دنیا کی بنیاد پڑی ہے ایسا خونی آدمی کوئی نہ گذرا ہو ۔ اور اس قدر اپنے تابعوں میں مال تقسیم کرے کہ لوگوں کو مال رکھنے کے لئے جگہ نہ رہے۔ اور پھر اتنی خونریزیوں کے بعد چالیس برس تک موت کا حکم دنیا پر سے قطعا موقوف کر دیا جائے اور تمام ایشیا اور یورپ اور امریکہ میں بجائے اس کے کہ ایک طرفتہ العین میں لا کھ آدمی مرتا تھا چالیس برس تک کوئی کیڑا بھی نہ مرے نہ وہ بچہ جو پیٹ میں ہے اور نہ وہ بڑھا جو ایک سو برس کا ہے ۔ اور شیر اور بھیڑیے اور چرگ اور باز گوشت کھانا چھوڑ دیں یعنی چالیس برس تک درندے بھی اپنے شکار کو مارنا چھوڑ دیں۔ یہاں تک کہ وہ جوئیں جو بالوں میں پڑتی ہیں اور وہ کیڑے جو پانی میں ہوتے ہیں کسی کو موت نہ آوے۔ اور لوگ اگر چہ رو پہیہ بہت پادیں مگر چالیس برس تک صرف دال پر ہی گزارہ کریں۔ اور جین مت کے مذہب کی طرح کوئی شخص کوئی جانور نہ مارے عید کی قربانیاں اور حج کے ذبیحے سب بند ہو جائیں ۔ لوگ حملہ یہ تمام امور ان پیشگوئیوں سے لازم آتے ہیں جن کے ظاہر الفاظ پر علماء حال زور دے رہے ہیں کیونکہ جبکہ یہ حکم صادر ہو گیا کہ چالیس برس تک کوئی زندہ نہیں مرے گا اور اسی بنا پر شیر نے بکری کے ساتھ ایک گھاٹ میں پانی پیا اور اپنا شکار پا کر پھر بھی اس کو نہ مارا اور بھیڑئیے نے بھی گوشت خواری سے توبہ کی اور باز بھی چڑیوں کے مارنے سے باز آیا اور سب نے بھوک سے اذیت اٹھانا قبول کیا مگر کسی جاندار پر حملہ نہ کیا یہاں تک کہ بلی نے بھی چوہے کی جان بخشی کی اور سب درندوں نے جانوں کی حفاظت کے لئے اپنی موت کو قبول کر لیا تو پھر کیا انسان ہی نالائق اور نا فرمان رہے گا کہ ایسے امن کے زمانہ میں اپنے پیٹ کے لئے خون کر کے درندوں سے بھی بدتر ہو جائے گا ؟ منه