تحفۂ گولڑویہ — Page 158
روحانی ختنه ائن جلد ۱۷ ۱۵۸ تبھی تو یہ شور قیامت برپا ہوگا اور کافر کہلائیں گے ۔ غرض ان احادیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ مہدی اور مسیح علماء وقت کی امیدوں کے برخلاف ظاہر ہوں گے اور جس طور سے انہوں نے حدیثوں میں پڑی جما رکھی ہے اُس پڑی کے برخلاف ان کا قول اور فعل ہو گا۔ اسی وجہ سے اُن کو کافر کہا جائے گا۔ یہ بات یادرکھنے کے لائق ہے کہ علماء مخالفین کا میری نسبت در حقیقت اور کوئی بھی عذر نہیں بجز اس بیہودہ عذر کے کہ جو ایک ذخیرہ رطب یا بس حدیثوں کا انہوں نے جمع کر رکھا ہے اُن کے ساتھ مجھے ناپنا چاہتے ہیں حالانکہ ان حدیثوں کو میرے ساتھ ناپنا چاہئے تھا۔ یہ ایک ابتلاء ہے جو کم عقل اور بدقسمت لوگوں کے لئے مقدر تھا اور اس ابتلا میں نادان لوگ پھنس جاتے ہیں کیونکہ وہ لوگ اپنے دلوں میں پہلے ہی ٹھہرا لیتے ہیں کہ جو کچھ مہدی اور مسیح کی نسبت حدیثیں لکھی ہیں اور جس طرح اُن کے معنے کئے گئے ہیں وہ سب صحیح اور واجب الاعتقاد ہیں اس لئے جب وہ لوگ اس فرضی نقشہ سے جو قرآن شریف سے بھی مخالف ہے مجھے مطابق نہیں پاتے تو وہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ کا ذب ہے۔ مثلاً وہ خیال کرتے ہیں کہ مسیح موعود ایک ایسی قوم یا جوج ماجوج کے وقت آنا چاہئے جن کے لمبے درختوں کی طرح قد ہوں گے اور اس قدر لمبے کان ہوں گے کہ اُن کو بستر کی طرح بچھا کر اُن پر سور ہیں گے ۔ اور نیز مسیح آسمان سے فرشتوں کے ساتھ اُترنا چاہئے بیت المقدس کے منارہ کے پاس مشرقی طرف اور دجال عجیب الخلقت اس سے پہلے موجود چاہئے جس کے قبضہ قدرت میں (۴۳) سب خدائی کی باتیں ہوں۔ مینہ برسانے اور کھیتیاں اُگانے اور مُردوں کے زندہ کرنے پر قادر ہو ایک آنکھ سے کانا ہو۔ اور اس کے گدھے کا سر اتنا بڑا موٹا ہو کہ دونوں کانوں کا مہدی کو کافر اور گمراہ اور دقبال اور ملحد ٹھہرانے کے بارے میں دیکھو حجج الکرامہ نواب مولوی اور اور صدیق حسن خاں اور دراسات اللبیب اور فتوحات مکیہ۔ منہ