تحفۂ گولڑویہ — Page 145
روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۴۵ یہ بھی فرمایا کہ اُس کی زبان پنجابی ہے۔ تب عرض کیا گیا کہ آپ نام بتلا دیں جس نام سے وہ ں مشہور ہے اور جگہ سے مطلع فرماویں۔ جواب دیا کہ میں نام نہیں بتلاؤں گا۔ اب جس قدر ☆ حمد ان راویوں میں سے ایک صاحب مرزا صاحب کر کے مشہور ہیں جن کا نام محمد اسمعیل ہے اور پشاور محلہ گل بادشاہ صاحب کے رہنے والے ہیں سابق انسپکٹر مدارس تھے۔ ایک معزز اور ثقہ آدمی ہیں مجھ سے کوئی تعلق بیعت نہیں ہے۔ ایک مدت دراز تک میاں صاحب کوٹھہ والے کی صحبت میں رہے ہیں انہوں نے مولوی سید سرور شاہ صاحب کے پاس بیان کیا کہ میں نے حضرت کو ٹھہ والے صاحب سے سنا ہے کہ وہ کہتے تھے کہ مہدی آخرالزمان پیدا ہو گیا ہے ابھی اس کا ظہور نہیں ہوا اور جب پو چھا گیا کہ نام کیا ہے تو فرمایا کہ نام نہیں بتلاؤں گا مگر اس قدر بتلاتا ہوں کہ زبان اس کی پنجابی ہے۔ دوسرے صاحب جو وہ اپنا بلا واسطہ سُنا بیان کرتے ہیں۔ وہ ایک بزرگ معمر حضرت کو ٹھہ والے صاحب کے بیعت کرنے والوں میں سے اور اُن کے خاص رفیقوں میں سے ہیں جن کا نام (۳۵)) حافظ نور محمد ہے اور وہ متوطن موضع گڑھی امازی ہیں۔ اور ان دنوں میں کوٹھہ میں رہا کرتے ہیں۔ اور تیسرے صاحب جو اپنا سننا بلا واسطہ بیان کرتے ہیں ایک اور بزرگ معمر سفید ریش ہیں جن کا نام گلزار خاں ہے یہ بھی حضرت کوٹھہ والے صاحب سے بیعت کرنے والے اور متقی پر ہیز گار خدا ترس نرم دل اور مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کے پیر بھائی ہیں ان دونوں بزرگوں کی چشم دید روایت بذریعہ مجھی مولوی حکیم محمد بیٹی صاحب دیگرانی مجھے پہنچی ہے ۔ مولوی صاحب موصوف ایک ثقہ اور متقی آدمی ہیں اور حضرت کو ٹھہ والے صاحب کے خلیفہ کے خلف الرشید ہیں۔ انہوں نے ۲۳ جنوری ۱۹۰۰ء کو میری طرف ایک خط لکھا تھا جس میں ان دونوں بزرگوں کے بیانات اپنے کانوں سے سن کر مجھے اس سے اطلاع دی ہے خدا تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے آمین ۔ اور وہ خط یہ ہے بخدمت شریف حضرت امام الزمان بعد از السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ معروض کہ میں موضع کو ٹھہ علاقہ یوسف زئی کو گیا تھا اور چونکہ سنا ہوا تھا کہ حضرت صاحب مرحوم