تحفۂ گولڑویہ — Page 144
۱۴۴ روحانی خزائن جلد ۱۷ وہی صدی مہدی کے ظہور کے لئے مانی پڑی تا دعویٰ اور دلیل میں تفریق اور بُعد پیدا نہ ہو۔ اور پھر اس بات پر ایک اور دلیل ہے جس سے صاف طور پر سمجھا جاتا ہے کہ علماء اسلام کا یقینی طور پر یہی عقیدہ تھا کہ مسیح موعود چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوگا اور وہ یہ ہے کہ انواع حافظ برخوردار سکنہ موضع چیٹی شیخاں ضلع سیالکوٹ میں جس کی پنجاب میں بڑی قبولیت ہے ایک ہندی شعر ہے جس میں صاف اور صریح طور پر اس بات کا بیان ہے کہ مسیح موعود چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوگا اور وہ یہ ہے پیچھے اک ہزار دے گزرے تری سے سال عیسی ظاہر ہوسیا کر سی عدل کمال اس کا ترجمہ یہ ہے کہ جب سن ہجری سے تیرہ سو برس گذر جائیں گے تو چودھویں صدی کے سر پر عیسے ظاہر ہو جائے گا جو کامل عدالت کرے گا یعنی دکھا دے گا کہ صراط مستقیم یہ ہے ۔ اب دیکھو که حافظ صاحب مرحوم نے جو عالم حدیث اور فقہ ہیں اور تمام پنجاب میں بڑی شہرت رکھتے ہیں اور پنجاب میں اپنے زمانہ میں اول درجہ کے فقیہ مانے گئے ہیں اور لوگ اُن کو اہل اللہ میں سے شمار کرتے ہیں اور متقی اور راست گو سمجھتے ہیں بلکہ علماء میں وہ ایک خاص عزت کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں کیسے انہوں نے صاف طور پر فرما دیا کہ چودھویں صدی کے سر پر عیسی ظاہر ہوگا ور منصفین کے لئے کافی ثبوت اس بات کا دے دیا ہے کہ حدیث اور اقوال علماء سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود کے ظاہر ہونے کا وقت چودھویں صدی کا سر ہے۔ دیکھو یہ کیسی صاف گواہیاں ہیں جن کو آپ لوگ قبول نہیں کرتے۔ کیا ممکن تھا کہ حافظ برخوردار صاحب با وجود اس قدر وقعت اور شان اپنی کے جھوٹ بولتے ؟ اور اگر جھوٹ بولتے اور اس قول کا کوئی حدیث ماخذ ثابت نہ کرتے تو کیوں علمائے امت اُن کا پیچھا چھوڑ دیتے۔ پھر ایک اور مشہور بزرگ جو اسی زمانہ میں گذرے ہیں جو کوٹھہ والے کر کے مشہور ہیں۔ اُن کے بعض مریداب تک زندہ موجود ہیں انہوں نے عام طور پر بیان کیا ہے کہ میاں صاحب کو ٹھہ والے نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ مہدی پیدا ہو گیا ہے۔ اور اب اس کا زمانہ ہے اور ہمارا زمانہ جاتا رہا اور اور