تریاق القلوب — Page 436
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۳۶ تریاق القلوب عہد کو اُس نے توڑ دیا اور وہ جعفر زٹلی جو گندی گالیوں سے کسی طرح باز نہیں آتا تھا اگر ذلت کی موت اُس پر وارد نہیں ہوئی تو اب کیوں نہیں گالیاں نکالتا اور اب ابوالحسن تبتی کہاں ہے۔ اُس کی زبان کیوں بند ہوگئی۔ کیا اُس کے گندے ارادوں پر کوئی انقلاب نہیں آیا ؟ پس یہی تو وہ ذلت ہے جو پیشگوئی کا منشاء تھا کہ ان سب کے منہ میں لگام دی گئی ۔ اور در حقیقت اس الہام کی تشریح جو ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کو ہوا اس الہام نے دوبارہ کر دی ہے جو بتاریخ ۲۱ / فروری ۱۸۹۹ء رساله حقیقت المہدی میں شائع کیا گیا بلکہ مجیب تر بات یہ ہے کہ ۲۱ / نومبر ۱۸۹۸ء کے اشتہار میں جو الہام شائع ہوا تھا اُس میں ایک یہ فقرہ تھا کہ بعض الظالم على يديه ۔ اور پھر یہی فقر ه ۲۱ فروری ۱۸۹۹ء کے الہام میں بھی جو ۲۱ / نومبر ۱۸۹۸ء کے الہام کے لئے بطور شرح کے آیا ہے جیسا کہ رسالہ حقیقت المہدی کے صفحہ ۱۲ سے ظاہر ہے ۔ پس ان دونوں الہاموں کے مقابلہ سے ظاہر ہوگا کہ یہ دوسرا الہام جو ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کے الہام سے قریباً تین ماہ بعد ہوا ہے اس پہلے الہام کی تشریح کرتا ہے اور اس بات کو کھول کر بیان کرتا ہے کہ وہ ذلت جس کا وعدہ اشتہار ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء میں تھا وہ کس رنگ میں پوری ہو گی ۔ اسی غرض سے یہ مؤخر الذکر الهام جو ۲۱ فروری ۱۸۹۹ء کو ہوا پہلے الہام کے ایک فقرہ کا اعادہ کر کے ایک اور فقرہ بطور تشریح اس کے ساتھ بیان کرتا ہے ۔ یعنی پہلا الہام جو اشتہار ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء میں درج ہے جو محمد حسین اور جعفر زنگی اور ابوالحسن تعبتی کی ذلت کی پیشگوئی کرتا ہے اس میں یہ فقرہ تھا کہ بعض الظالم على يديه یعنی ظالم اپنے ہاتھ کاٹے گا اور دوسرے الہام میں جو ۲۱ / فروری ۱۸۹۹ء میں بذریعہ رسالہ حقیقت المہدی شائع ہوا اس میں یہی فقرہ ایک زیادہ فقرہ کے ساتھ اِس طرح پر खेলलाओ