تریاق القلوب — Page 435
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۳۵ تریاق القلوب اور آپ ہی فتویٰ طیار کیا اور آپ ہی حکام کے خوف سے منسوخ کر دیا اور ساتھ ہی جعفر زٹلی و غیرہ کی قلمیں ٹوٹ گئیں۔ اور با ایں ہمہ رسوائی پھر محمد حسین نے اپنے دوستوں کے پاس یہ ظاہر کیا کہ فیصلہ میری منشاء کے موافق ہوا ہے ۔ لیکن سوچ کر دیکھو کہ کیا محمد حسین کا یہی منشاء تھا کہ آئندہ مجھے کافر نہ کہے اور تکذیب نہ کرے اور ان باتوں سے تو بہ کر کے اپنا منہ بند کر لے اور کیا جعفر زٹلی یہ چاہتا تھا کہ اپنی گندی تحریروں سے باز آ جائے ؟ پس اگر یہ وہی بات نہیں جو اشتہار ۲۱ / نومبر ۱۸۹۸ء کی پیشگوئی پوری ہوگئی اور خدا نے میرے ذلیل کرنے والے کو ذلیل کیا ہے تو اور کیا ہے؟ جس شخص نے اپنے رسالوں میں یہ عہد شائع کیا تھا کہ میں اس شخص کو مرتے دم تک کا فر اور دجال کہتا رہوں گا جب تک وہ میرا مذ ہب قبول نہ کرے۔ تو اس میں اُس کی کیا عزت رہی جو اس یہ بھی ہو جاتا ہے کہ وہ اس ولی اللہ کی ہر حالت میں مخالفت کرتا رہتا ہے جو سر چشمہ نبوت سے پانی پیتا ہے جس کو چائی پر قائم کیا جاتا ہے۔سو چونکہ اس کی عادت ہو جاتی ہے کہ خواہ خواہ ہر ایک ایسی سچائی کو رد کرتا ہے جو اس ولی کے منہ سے نکلتی ہے اور جس قدر اس کی تائید میں (۱۳۲) نشان ظاہر ہوتے ہیں یہ خیال کر لیتا ہے کہ ایسا ہونا جھوٹوں سے ممکن ہے۔ اس لئے رفتہ رفتہ سلسلہ نبوت بھی اُس پر مشتبہ ہو جاتا ہے۔ لہذا انجام کا راس مخالفت کے پردہ میں اس کی ایمانی عمارت کی اینٹیں گرنی شروع ہو جاتی ہیں یہاں تک کہ کسی دن کسی ایسے عظیم الشان مسئلہ کی مخالفت یا نشان کا انکار کر بیٹھتا ہے جس سے ایمان جاتا رہتا ہے ہاں اگر کسی کا کوئی سابق نیک عمل ہو جو حضرت احدیت میں محفوظ ہو تو ممکن ہے کہ آخر کا ر عنایت از لی اُس کو تھام لے اور وہ رات کو یا دن کو یکدفعہ اپنی حالت کا مطالعہ کرے یا بعض ایسے امور اس کی آنکھ روشن کرنے کے لئے پیدا ہو جائیں جن سے یکدفعہ وہ خواب غفلت سے جاگ اُٹھے۔ وذالک فضل الله يُؤتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم ـ منه