تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 437 of 769

تریاق القلوب — Page 437

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۳۷ تریاق القلوب لکھا گیا ہے ۔ بعض الظالم على يديه ويوثق ۔ اور اس فقرہ کے معنے اسی رسالہ حقیقت المہدی کے صفحہ ۱۲ کی اخیر سطر اور صفحہ ۱۳ کی پہلی سطر میں یہ بیان کئے گئے ہیں ۔ ظالم اپنے ہاتھ کاٹے گا اور اپنی شرارتوں سے روکا جائے گا۔ اب دیکھو کہ اس تشریح میں صاف بتلایا گیا ہے کہ ذلت کس قسم کی ہوگی یعنی یہ ذلت ہوگی کہ محمد حسین اور جعفر زٹلی اور ابوالحسن تبتی اپنی گندی اور بے حیائی کی تحریروں سے روکے جائیں گے اور جو سلسلہ اُنہوں نے گالیاں دینے اور بے حیائی کے بے جا حملوں اور ہماری پرائیویٹ زندگی اور خاندانی تعلقات کی نسبت نہایت درجہ کی کمینہ پن کی شرارت اور بد زبانی اور افترا اور جھوٹ سے شائع کیا تھا وہ جبر ابند کیا جائے گا ۔ اب سوچو کہ کیا وہ سلسلہ بند کیا گیا یا نہیں اور کیا وہ شیطانی کارروائیاں جو نا پاک زندگی کا خاصہ ہوتی ہیں جن کی بے جا غلو سے پاک دامن بیو یوں آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر گندہ زبانی کے حملے کرنے کی نوبت پہنچ گئی تھی۔ کیا یہ پلید اور بے حیائی کے طریق جو محمد حسین اور اُس کے دوست جعفر زٹلی نے اختیار کئے تھے حاکم مجاز کے حکم سے روکے گئے یا نہیں اور کیا یہ گندہ زبانی کی عادت جس کو کسی طرح یہ لوگ چھوڑ نا نہیں چاہتے تھے چھڑائی گئی یا نہیں پس ایک عقلمند انسان کے لئے یہ ذلت کچھ تھوڑی نہیں کہ اس کی خلاف تہذیب اور بے حیائی اور سفلہ پن کی عادات کے کاغذات عدالت میں پیش کئے جائیں اور پڑھے جائیں اور عام اجلاس میں سب پر یہ بات کھلے اور ہزار ہا لوگوں میں شہرت پا دے کہ مولوی کہلا کر ان لوگوں کی یہ تہذیب اور یہ شائستگی ہے ۔ اب خود سوچ لو کہ کیا اس حد تک کسی شخص کی گندی کارروائیاں ، گندے عادات ، گندے اخلاق حکام اور پبلک پر ظاہر ہونا کیا یہ عزت ہے یا بے عزتی ؟ اور کیا ایسے نفرتی اور نا پاک شیوہ پر عدالت کی طرف سے مواخذہ ہونا یہ کچھ سرافرازی کا