تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 370 of 769

تریاق القلوب — Page 370

روحانی خزائن جلد ۱۵ ٣٧٠ تریاق القلوب پیشگوئی کے اثر نے اُس کو نہ چھوڑا لیکن افسوس کہ ہمارے علماء کے دل نے نہ مانا کہ خدا کے نشان کو قبول کریں۔ اب بھی مناسب ہے کہ وہ اس کتاب کو غور سے پڑھیں اور ایک محققانہ دل اور دماغ لے کر ذرہ سوچیں کہ اب ان ثبوتوں کے بعد پیشگوئی کی سچائی میں کونسی کسر باقی ہے۔ کیا ہمارے ذمہ کوئی بار ثبوت ہے جس سے ہم سبکدوش نہیں ہوئے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ ہم نے اپنے دعوے کو بہت سے ثبوتوں سے مدلل کر کے دکھلا دیا ہے مگر آتھم نے حق پوشی کے لئے جو دعویٰ کیا تھا کہ میں تین حملوں سے ڈرانہ پیشگوئی سے اس دعوے سے وہ سبکدوش نہیں ہوا یہاں تک کہ فوت ہو گیا۔ عزیز و! اب جوانمردی اور تقویٰ کی راہ سے حق کو قبول کرو۔ اور مجھے اس بات سے بہت مسرت ہے کہ بعض مولوی صاحبان اب تو بہ نامے بھیج رہے ہیں اور جنگ کے اشتہار صلح کے عرائض سے بدل رہے ہیں۔ اکثر نا ہموار طبیعتیں صاف اور سیدھی سڑکوں کی طرح بنتی جاتی ہیں اور دلوں کے ویران اور سنسان جنگل وادی کشمیر کی طرح گل و گلزار سے بھرتے جاتے ہیں ۔ نا قابلیت اور ستی کی مرض کم ہوتی جاتی ہے اور جو کچھ پہلے دنوں میں اُن پر مشکل تھا اب وہ آسان ہوتا جاتا ہے۔ اب میں دیکھتا ہوں کہ ہر ایک سیدھی طبیعت کے لئے یہ راہ صاف اور کشادہ ہے کہ مجھے اور میرے نشانوں کو بآسانی قبول کر لیں جبکہ وہ اپنے گذشتہ اولیاء کے ایسے خوارق قبول کرتے ہیں کہ جن کے بارے میں اُن کے ہاتھ میں کوئی کافی ثبوت نہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ایسے نشانوں کے قبول کرنے کے لئے ایک لشکر جرار کی طرح اُن کے سامنے کھڑے ہیں اور ایک دوسرے پر اپنے ثبوت اور صفائی کی روشنی ڈال رہے ہیں ۔ کسی قسم کی روک اُن کو پیش آوے بلکہ اُن کے لئے نہایت خوشی کا یہ موقع ہے کہ یہ دن اُنہوں نے دیکھا۔ اُس زمانہ کو ابھی کچھ بہت عرصہ نہیں ہوا کہ جب ایک پادری بازار میں کھڑا ہو کر اعتراض کرتا تھا کہ نعوذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے