تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 371 of 769

تریاق القلوب — Page 371

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۶۶ تریاق القلوب کوئی معجزہ نہیں ہوا تب کس قدر سچے مومنوں کے دلوں پر صدمہ پہنچتا تھا اور گونقول اور اخبار سے جواب دیا جاتا تھا مگر متعصب دشمن کب مانتا تھا اور اب وہ زمانہ ہے کہ کوئی پادری ہمارے سامنے کھڑا نہیں ہو سکتا اور خدا تعالیٰ کے نشان اس طرح نازل ہو رہے ہیں جیسا کہ برسات کی بارش۔ پس یہ شکر کا مقام تھا نہ یہ کہ سب سے پہلے آپ ہی انکار کرنا شروع کر دیں۔ یہ کس قدر فخر کی بات تھی کہ اب بھی اسلام میں صاحب خوارق اور نشان موجود ہیں اور دوسری قوموں میں موجود نہیں ذرہ سوچیں کہ یہ تمام کارروائی اسلام کے لئے تھی یا کسی اور مطلب کے لئے ۔ اب اسلام میرے ظہور کے بعد اُس بلندی کے مینار پر ہے کہ جس کے مقابل پر تمام ملتیں نشیب میں پڑی ہیں کیونکہ زندہ مذہب وہی ہوتا ہے جو اپنے ساتھ تازہ بتازہ نشان رکھتا ہے۔ وہ مذہب نہیں بلکہ پرانے قصوں کا مجموعہ ہے جس کے ساتھ زندہ نشان نہیں ہیں۔ پس یہ کس قدر خوشی کی بات ہے کہ اب اسلامی وجاہت میرے ظہور سے ایک اعلیٰ درجہ کی ترقی پر ہے۔ اُس کا نور دشمن کو نز دیک آنے نہیں دیتا۔ کیا اس میں شک ہے کہ جو اس سے پہلے اسلامی نشانوں کا ذکر کیا جاتا تھا وہ دشمنوں کی نظر میں صرف دعوے کے رنگ میں تھا۔ اب وہ آفتاب کی طرح چمک رہا ہے اور ہر ایک واعظ اپنے ارادوں میں میری طرف سے امداد پا رہا ہے اور میرے نیک ارادوں کو خدا کی مدد ہر دم ۱۰۳ سہارا دے رہی ہے۔ اب ہم دشمن کو صرف ایک بات میں گرا سکتے ہیں کہ اُس کا مذہب مردہ اور نشانوں سے خالی ہے اور اب ہر ایک مسلمان زندہ اور موجود نشان دکھلا سکتا ہے اور پہلے ایسا نہیں تھا۔ خوشی کرو اور اچھلو کہ یہ اسلام کے اقبال کے دن ہیں۔ اور منجملہ ہیبت ناک اور عظیم الشان نشانوں کے پنڈت لیکھرام کی موت کا نشان ہے جس کے وقوع کے نہ ایک نہ دو بلکہ برٹش انڈیا کے تمام ہندو اور مسلمان