تریاق القلوب — Page 369
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۶۹ تریاق القلوب نالش سے دست برداری سے اور اپنے اقرار سے کہ ایام پیشگوئی میں میں ڈرتا رہا ہوں اور اپنی عادات سابقہ کو یک لخت چھوڑنے سے ثابت کر دیا ہے کہ اُس نے الہامی پیشگوئی کے سننے کے بعد ضرور اپنی مخالفانہ عادات اور مذہبی مخالفت سے اور ایسا ہی ہر ایک قسم کی بے باکی اور گستاخی اور بد زبانی سے ضرور رجوع کیا تھا اور نہ صرف رجوع بلکہ دل اُس کا خوف سے بھر گیا اور اُس کا آرام جاتا رہا۔ یہ ہماری طرف سے صرف دعوی نہیں بلکہ یہ (۱۰۲) وہ باتیں ہیں جن میں سے بعض کا اُس نے خود اقرار کیا اور بعض کو پبلک نے بچشم خود دیکھ لیا اور بعض اُس کے عملی حالات سے معلوم ہو گئیں۔ مگر یہ عجیب حیرت کا مقام ہے کہ باوجود اتنی وضاحت اور اس قدر قرائن اور اس قدر صاف شہادتوں کے پھر بھی ہمارے مخالف مولویوں اور اُن کے پیروؤں نے اس پیشگوئی کا انکار کر ہی دیا۔ چاہیئے تھا کہ وہ اس نشان پر جو علمی معارف بھی ساتھ رکھتا تھا جس سے ایک پیشگوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری ہوتی تھی اور جس کے بغیر لیکھرام والا نشان صرف ایک آنکھ کی طرح رہ جاتا تھا اور اُن دو نشانوں کی ترتیب بگڑتی تھی جو جمالی اور جلالی رنگ میں صفات الہیہ کا پورا چہرہ دکھلاتے تھے حد سے زیادہ بلکہ زیادہ سے زیادہ خوشی مناتے اور آسمانی نشان کا قدر کرتے اور سوجا کھوں کی طرح الہامی شرط کو دیکھتے اور آتھم کے قول اور فعل میں اس کا ثبوت پا کر خوشی سے اُچھلتے ۔ یہ ایک تھوڑی بات نہیں تھی کہ اس پیشگوئی اور لیکھرام والی پیشگوئی کو ایک دوسرے کے مقابل پر رکھ کر ایک طالب حق کو تجلیات البیہ کی معرفت حاصل ہوتی تھی کہ گویا اس آئینہ سے خدا نظر آ جاتا تھا اور جمالی اور جلالی قدرت کے اسرار کھلتے تھے اور یہ بھی معلوم ہوتا تھا کہ اس پیشگوئی کی تاثیر نے آتھم کی سرشت اور عادت پر کس قدر فوق العادت اثر ڈالا یہاں تک کہ اس کے سننے کے بعد آئھم آتھم نہ رہا اور گو اس کو ایک قلیل مہلت ملی مگر پھر بھی